بیٹے کی موجودگی میں بھائی بھتیجے میت کے ترکہ سے کچھ نہ پائیں گے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ ایک شخص چھدا نے اپنی بیوی خاتون کو طلاق دے دی۔ خاتون سے چھدا کا ایک لڑکا انوار احمد تھا جو طلاق کے وقت شیر خوار تھا۔ خاتون نے عدت کے بعد دوسرے شخص سے نکاح کر لیا اور لڑکے کو بھی اپنے ساتھ لے گئی۔ لڑکا اپنی ماں اور سوتیلے باپ کے پاس پرورش پاتا رہا ، اپنے حقیقی باپ چھدا سے اس کا کوئی تعلق نہیں رہا۔ چھدانے بھی اپنا دوسرا نکاح کر لیا۔ مگر دوسری بیوی سے اس کی کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ اب چھدا کا انتقال ہو گیا۔ چھرا کے بھائی بھتیجے چھدا کی جائیداد پر زبر دستی قابض ہونا چاہتے ہیں۔ انہوں نے چھرا کی موجودہ بیوی کو بھی اس کے مکان سے نکال دیا ہے۔ لہذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس صورت میں چھرا کے مکان وغیرہ ترکے کے مالک چھدا کے بھائی بھیجے وغیرہ ہوں گے یا چھدا کا لڑکا انوار احمد اس کا مالک ہوگا؟ ہتفصیل جواب سے سرفراز فرمائیں۔ بینوا توجروا۔ المستفتی: حاجی عبد الستار + بہیڑی ، بریلی
صورت مسئولہ میں چھرا کی جائیداد اور اس کے کل ترکہ کا وارث اس کا لڑکا ہے جبکہ چھدا کے ماں باپ زندہ نہ ہوں، بھائی بھتیجے بیٹے کی موجودگی میں کچھ نہ پائیں گے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم