سسرالی تشدد کے بعد میکے میں مقیم بیوی کے لئے مہر معجل اور موجل کے مطالبے کا شرعی حکم
بطن سے ایک لڑکا تولد ہو انگر لڑکی اپنے میکے برابر آتی جاتی رہی اور اپنی تکلیف کی داستان والدین کو ستاتی رہی مگر والدین چونکہ غریب ہیں اس لئے اپنی دختر کو سمجھا کر ہمیشہ سسرال بھیجتے رہے ایک دن لڑکی کا چھوٹا بھائی لڑکی کو لینے گیا تو اس کے ساس سسر نے لڑکی کو بھیج دیا جیسا کہ ہمیشہ بھیجا کرتے تھے لیکن ایک ہفتہ بعد زید آیا اور زبر دستی لڑکی کی گود سے اس کا دودھ پیتا بچہ جو تقریبا ڈیڑھ سال کا تھا اپنے ساتھ لے گیا اور گھر جاکر کچہری میں دعویٰ دائر کر دیا کہ میری بیوی پانچ ہزار کے زیور لے کر چلی گئی۔ کچہری نے مقدمہ سماعت کر کے زید کا دعویٰ باطل قرار دیا اور مقدمہ خارج کر دیا۔ لڑکی تقریب ڈیڑھ سال سے اپنے والدین کے گھر ہے۔ اب لڑکی نے کچہری میں نان و نفقہ کا دعوی اپنے شوہر پر دائر کر دیا۔ مقدمہ کچہری کے زیر سماعت ہے۔ کیا ایسی حالت میں لڑکی اپنے مہر کا مطالبہ کر سکتی ہے یا نہیں ؟ آپ ایسی حالت میں شرع کے حکم سے مشرح جواب عنایت فرمائیں۔ عین نوازش ہوگی، فقط، السلام علیکم ! احقر : عبدالشکور معرفت مارڈن ٹیلر و یک روڈ ٹیکم گڑھ ، مدھیہ پردیش
الجواب: جتنا مہر معجل ہے اس کا مطالبہ عورت کو پہنچتا ہے اور عند الطلب فوراً شوہر پر ادا لازم ہے اور موجل کا مطالبہ حلول اجل مقر ر سے پہلے اسے نہیں پہنچتا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله ۱۳ شوال المکرم ۱۴۰۳ھ صبح الجواب۔ اور اگر معجل یا موجل کا ذکر نہیں ہوا ہے تو اس کا مطالبہ عند الطلاق یا عند الوفات کر سکے گی۔ واللہ تعالی اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی