مسجد کا سامان اپنے ذاتی مصرف میں استعمال کرنے والے کے پیچھے نماز کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: (1) زید نے مسجد کا بجرفٹ وریتہ وغیرہ جو مسجد کے کام کے لئے تھا، اس کو اپنے مکان میں صرف کیا۔ ازروئے شرع زید کے لئے کیا حکم شرعی ہے ؟ اور زید کی امامت کیسی ہے ؟ جبکہ اس بجرفٹ وریتے کا کوئی حساب نہیں دیا۔ (۲) یہ جہاں بھی امامت کرتے ہیں وہاں آپس میں کئی پارٹیاں کرا دیتے ہیں جس کی وجہ سے سنی حضرات میں آپس میں لڑائی جھگڑارہتا ہے اور نا اتفاقی چل رہی ہے۔ ایسے کے لئے کیا حکم شرعی ہے ؟ (۳) زید کے لڑکے کا نکاح ہوا جس پر زید نے کہا یہ نکاح ناجائز ہے جو بھی اس میں شرکت کرے گا اس کی بیوی بھی نکاح سے نکل جائے گی۔ اس پر محلہ کا کوئی شریک نہ ہوا جبکہ وہ نکاح صحیح تھا۔ کچھ دن بعد زید خود اس کا شریک ہو گیا تو جو شخص پہلے حرام بتائے پھر اس کو حلال سمجھے ایسے پر کیا حکم شرعی ہے ؟ اور اس کی امامت کیسی ہے ؟ (۴) زید نے بکر کا نکاح پڑھا یایا کچھ دن بعد بکر نے طلاق دے دی اور زید سے بکر نے اپنے نکاح کی رسید طلب کی تو زید نے بکر سے پچاس روپیہ مانگا۔ بکر نے روپیہ نہیں دیے، زید نے اسکو اسکے نکاح کی رسید نہیں دی۔ بکر کو دوسری شادی کرنے میں بڑی پریشانی اٹھانا پڑی۔ اس پر زید کے اوپر کیا حکم شرعی ہے ؟ (۵) کسی مسلمان پر بلا کسی ثبوت کے غلط تہمت لگانا کیسا ہے ؟ اور چغلی کر کے ایک دوسرے کو لڑوادینا کیسا ہے ؟ ایسے شخص کی امامت از روئے شرع کیسی ہے ؟ (1) زید نے بکر کو اپنے محلہ کی مسجد بلا کر امام رکھا۔ اب اپنے نفس امارہ کی خاطر بکر سے ناراض رہتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کی امامت صحیح نہیں ہے اس لئے ہم اس کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے ہیں، اس کو مسجد سے ہٹایا جائے اور کسی کو رکھا جائے ۔
الجواب: (1) زید پر فی الواقع اگر یہ جرم شرعی طور پر ثابت ہے تو اسے امام بنانا گناہ ہے توجب تک تو بہ صحیحہ کرے اور اس کا صلاح حال ظاہر نہ ہو جائے ، اس کی اقتدا سے پر ہیز لازم ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲،۳) وہی حکم جو گزرا، اسی شرط پر جو او پر لکھے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) اگر زید کا یہ دستور ہے کہ وہ رسید نکاح روپیہ لے کر دیتا ہے تو اس میں اس پر الزام نہیں کہ یہ ایک جائز شرط ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) حرام بد کام بد انجام ہے اور امامت بشرط ثبوت جرم واشتہار مکروہ تحریمی۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) زید کا اعتراض اگر بے وجہ شرعی ہے تو وہ سخت ملزم ہے، اس پر لازم ہے کہ اس سے تو بہ ورجوع کرے اور امام کی اقتدا کرے اور اگر کسی وجہ شرعی سے وہ معترض ہے تو ملزم نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله