رمضان المبارک کے کارڈ پر لکھی زکوۃ، فطرہ اور نزول قرآن سے متعلق عبارات کی شرعی تحقیق
ایک کارڈ رمضان المبارک کا چھاپ کر بانٹا گیا ہے جس میں یہ عبارت لکھی ہے: "بندہ مومن کا روزہ اس وقت زمین و آسمان کے درمیان فضائے بسیط میں معلق رہتا ہے جب تک کہ وہ اپنے حسب استطاعت زکوۃ و فطرہ اہم فرائض کی ادائیگی نہیں کرتا“۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ : (1) کیا زکوۃ و خیرات و فطرہ سبھی اہم فرائض ہیں ؟ (۲) کیا زکوۃ، خیرات و فطرہ سبھی کے عدم ادائیگی پر روزہ زمین و آسمان کے بیچ فضائے بسیط میں معلق رہتا ہے؟ (۳) کیا ز کوۃ، خیرات و فطرہ حسب استطاعت ادا کرنا چاہیے ؟ (۴) مذکورہ عبارت لکھنے پر اور شائع کرنے پر حکم شرعی سے آگاہ فرمائیں۔ (۵) اسی کارڈ میں ایک اور عبارت ہے ، وہ یہ ہے : ”رمضان المبارک کا مقدس و بابرکت مہینہ یقینا محتاج بیان نہیں ، چونکہ اللہ عزوجل نے خود اپنا کلام پاک قرآن عظیم اسی بابرکت مہینے میں آسمان دنیا سے اس فرش زمین پر بلاتخصیص مذہب و ملت لوگوں کی ہدایت کے لئے نازل فرمایا“۔ اس عبارت کے بھی شرعی حکم سے آگاہ فرمائیں کہ درست ہے یا نہیں ؟ المستفتی: ڈاکٹر لائق علی قادری رضوی، محله نبی گنج ، عابد منزل، گونڈہ (یوپی)
الجواب: (ار تا۴) حدیث میں ہے کہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وصحبہ وسلم فرماتے ہیں: اربع فرضهن الله في الاسلام فمن جاء بثلث منهن لم يغنين عنه شيئا حتى ياتى بهن جميعا الصلوة والزكاة وصيام رمضان وحج البيت . (1) یعنی چار چیزیں اللہ نے اسلام میں فرض فرمائیں، جو اُن میں سے کرے وہ اسے کچھ کام نہ دیں جب تک پوری چاروں نہ بجالائے ، نماز، زکوۃ، روزہ رمضان، حج کعبہ ۔ رواہ الامام احمد بسنده عن عمارة (1) مسند امام احمد، ج ۶، ص ۱۷۹ ، حدیث ٤٢ ، عالم الكتب، بيروت بن حزم رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ نیز حدیث شریف میں ہے: شهر رمضان معلق بين السماء والارض ولا يرفع الى الله الا بزكاة الفطر۔ رمضان کے روزے آسمان و زمین کے درمیان معلق رہتے ہیں اور بے صدقہ فطر بلند نہیں ہوتے ۔ کذافی کشف الغمہ۔ یہاں سے ظاہر ہوا کہ صدقہ فطر و زکوۃ کے متعلق اشتہار میں جو لکھا وہ صحیح ہے اور خیرات کہ صدقات نافلہ کو کہتے ہیں، کے بابت اس کا دعویٰ درست نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) درست ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۷ / ذی قعدہ ۱۴۰۳ھ