طلاق کے بعد مہر کی ادائیگی اور رہائشی مکان کے قبضے کا شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زید اور زید کی بیوی ہندہ میں ہمیشہ جھگڑا ہوتے رہتا ہے۔ ڈیڑھ دو سال کا عرصہ ہوا کہ ہندہ زید کو گھر میں آنے نہیں دیتی ہے اور ہندہ زید ہی کے گھر میں رہتی ہے اور زید اپنے گھر میں نہیں جاتا ہے۔ زید نے عاجز آکر ہندہ کو طلاق دے دی اور زید نے اپنے گھر کو بھی چھوڑ دیا اور اس گھر میں ہندہ رہتی ہے اپنے نواسہ کو لے کر ۔ کیا زید کو مہر دینا پڑے گا؟ اگر دینا پڑے گا تو کتنا دینا پڑے گا؟ کیونکہ زید کا گھر بھی ہندہ کے قبضے میں ہے۔ خلاصہ جواب ازروئے شرع عنایت فرمائیں۔
الجواب: المستفتی: محمد اختر حسین صاحب ہاں، پورا مہر لازم ہے اور ہندہ کا قبضہ مکان پر شرعاً جائز نہیں۔ اس پر لازم ہے کہ وہ زید کو اس کے مکان سے نہ روکے اور بعد عدت اس کا مکان خالی کر دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۶ ربیع الآخر ۱۴۰۲ھ