پیر سے بدگمانی اور بیعت کی تبدیلی کے احکام
امید کہ آپ بخیر ہونگے۔ کچھ دینی سوالات جن پر روشنی ڈال کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔ (۱) ہم رضویہ سلسلہ کے جناب ڈاکٹر شاہ سر رفیق صاحب سے بیعت ہوئے۔ چند وجوہات کی بنا پر ان سے انسیت ختم ہو گئی اور کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اور کان سے سن کر بد گمان ہو گیا۔ تو کیا میں ان کی بیعت میں رہایا بیعت سے خارج ہو گیا؟ اور کیا دوبارہ قادریہ سلسلہ کے آل رسول پیر سے بیعت ہو سکتا ہوں ؟ (۲) کیا کوئی شریعت کا پابند مسلمان اپنے پیر سے بدگمان ہو کر کنارے ہو گیا اور اعلیٰ حضرت کے مسلک پر عمل کرتا ہے، اس کے باوجود پیر صاحب کے دوسرے مرید اس سے سلام کلام بند کر دیں تو کیا شریعت کا پابند مسلمان پیر صاحب کے مطابق اسلام سے خارج ہو گیا؟ اس پر مفتیان شرع متین کیا فرماتے ہیں؟ (۳) کیا کوئی پیر اپنے مرید کو ذاتی جھگڑے کی بنا پر بیعت سے خارج کر سکتا ہے ؟ اور کچھ دنوں کے بعد جب معاملہ صاف ہو جائے تو اپنے بیعت میں رکھ سکتا ہے ؟ اس مسئلہ پر مفتی صاحب کی کیا رائے ہے ؟
الجواب: (۱) سوال فرضی ناموں سے کرنا مستحب ہے کہ یہی ادب سوال ہے۔ الزواجر میں ہے: " والافضل ان يبهمه (1) مسئول عنہ کا نام لینا خلاف ادب ہے۔ بر تقدیر صدق سوال اگر فی الواقع شیخ سے کوئی ایسی بات سرزد ہوئی جس سے بیعت فسخ ہوگئی یا علانیہ فسق و فجور میں مبتلا ہوئے تو اسے چھوڑ کر دوسرے جامع شرائط پیری سے بیعت ہونا جائز ہے اور اگر کوئی وجہ شرعی نہیں ہے تو تبدیل بیعت جائز نہیں اور نری بدگمانی حرام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) الزواجر عن اقتراف الكبائر، الكبيرة الثامنة والتاسعة والاربعون بعد الماتين، ج ۲، ص۲۹، دار المعرفة، بيروت (۲) نہیں جبکہ کوئی قول و فعل منافی اسلام صادر نہ ہوا ہو اور بے وجہ شرعی کسی مسلمان کو اسلام سے خارج کرنا خود اسلام سے خارج ہونا ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) بے وجہ شرعی بیعت نہیں ٹوٹتی لہذا جبکہ کوئی وجہ مقتضی فسخ نہیں تو پیر کو بیعت سے خارج کرنے کا حق نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله ۱۷ر رمضان المبارک ۱۴۰۴ھ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی