منکوحہ غیر کو اپنے پاس رکھنے والے سے میل جول رکھنے کا شرعی حکم
جو کسی منکوحہ غیر کو ر کھے اس سے میل جول رکھنا کیسا؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص جو ضلع لکھیم پور محلہ جوشی ٹولہ کا رہنے والا ہے، ایک عورت بغیر طلاق دی ہوئی اپنے گھر لے آیا تھا تو ہم لوگوں نے اعتراض کیا اور اس شخص کا حقہ پانی اور اس کے گھر کا آنا جانا بند کر دیا۔ پھر وہ عورت اس کے وہاں گزارہ کرتی رہی، قریب قریب چودو یا پندرہ مہینے رہ کر وہ عورت اپنے میکے چلی گئی۔ پھر اس شخص سے کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ معاملہ کسی مولانا کے پاس جاکر معلوم کر آؤ کہ اب ہم کس جرم میں مبتلا ہیں اور ہم کو کیا کرنا چاہئیے ؟ تو وہ مولانا کے پاس نہیں گئے بلکہ اور کچھ لوگ گئے تو یہ معلوم ہوا کہ اس کا جو بھی شریک حال ہو گاوہ خطاوار ہو گا اور اس کے نکاح میں بھی خلل پڑ جائے گا۔ یہ زبانی بات تھی، یہ معاملہ حل نہیں ہوا تھا، وہ عورت اس شخص کے گھر پھر آگئی تو ہم لوگوں نے بری طرح سے کنارہ کشی کر لیا اور اب اس وقت وہ عورت قریب چھ مہینے سے موجود نہیں ہے وہ اپنے میکے چلی گئی پھر وہ وہاں سے اپنی سسرال چلی گئی ہے۔ اب اس شخص کا آنا جانا، کھانا پینا کچھ لوگوں کے گھروں میں برابر چل رہا ہے ۔ لہذا آپ ہم لوگوں کو یہ بتائیں کہ اب اس حالت میں اس شخص کے لئے شریعت کیا کہتی ہے ؟ اور اس شخص کو ایک میں ملانے کی کیا صورت ہے اور جو اس کے شریک ہیں ان کو کیا کرنا چاہئے ؟ السائل : وفاتی ، قصبہ کھیری ٹاؤن محلہ جوشی ٹولہ
الجواب: بر تقدیر صدق سوال وہ شخص اشد گناہ گار مستوجب نار ، حق اللہ وحق العبد میں گرفتار ہے ، جب تک تو بہ صحیحہ نہ کرے اس سے ہر واقف حال کنارہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۱۴ر شوال المکرم ۱۴۰۲ھ