زندگی میں جائیداد کا مالک بنانا اور بیوہ کی پرورش کی شرط کا شرعی حکم
زندگی میں کسی کو اپنی جائیداد کا مالک بنا دیں تو مالک ہو جائے گا ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسائل ذیل میں کہ متوفی زید لاولد نے قبل وفات وصیت کی کہ اشیاء موہوبہ کے علاوہ میری جملہ جائیداد میرے دونوں حقیقی بھائی برابر تقسیم کر لیں گے اور میری بیوہ کی دونوں بھائی پرورش کریں گے جو پرورش میں شامل نہ رہے گا وہ حصہ سے محروم رہے گا۔ بعد وفات دونوں بھائیوں نے بیوہ کی پرورش مسلسل تین سال تک کی اور سارے اثانیہ البیت کی برابر تقسیم بھی کرلی، صرف پانچ بیگہ آراضی جو بیوہ کے نام سے تھی وہی بیچ رہی۔ اس کے بعد بیوہ نے منجھلے بھائی کے یہاں کھانا چھوڑ کر صرف چھوٹے بھائی کی پرورش پر رضامند ہو کر پانچ بیگہ آراضی مذکورہ کا معاہدہ بیع رجسٹر ڈانہیں چھوٹے بھائی کے نام کر دیا۔ اب چھوٹے بھائی کا کہنا حلفیہ طور پر یہ ہے کہ اگر منجھلے بھائی بیوہ کو رضامند کر کے کھلا پلا کر یا خوراکی کا خرچہ گزارہ کی شکل میں دے کر پرورش میں شامل رہیں گے تو ڈھائی بیگہ اراضی انہیں ضرور ملے گی مگر مجھے بھائی کا کہنا یہ ہے کہ میں صرف کھانا کھلا سکتا ہوں، گزارہ نہیں دے سکتا۔ اس پر بیوہ راضی نہیں ہے۔ (1) صورت مذکورہ میں اگر منجھلے بھائی کسی طرح بیوہ کی پرورش میں شامل نہ ہوں تو آراضی مذکورہ
الجواب: المستفتی: جلیل احمد ، انصاری ٹی اسٹال موضع لکھا ہی ، ڈاکخانہ مرزا پور ، بلرام پور ضلع گونڈہ (۱، ۲) فی الواقع اگر اس بیوہ نے وہ زمین چھوٹے بھائی کو بیچ دی یا ہبہ کر دی اور اسے قبضہ دلا دیا ہے تو وہ اس زمین کا مالک ہو گیا، اس کے منجھلے بھائی کو اس زمین میں کوئی حق نہیں پہنچتا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) کر سکتے ہیں جبکہ کوئی فرضی کارروائی بے ضرورت شرعیہ نہ کی ہوورنہ بے توبہ امامت کے لائق نہ ہوں گے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله شب ۱۹ر شوال المکرم ۱۴۰۲ھ