غیر مقلدین کے عقائد، سنیوں سے ان کے نکاح، وراثت اور نماز جنازہ میں شرکت کا حکم
(1) غیر مقلدین زمانه عند الفقہاء و عند المتکلمین کافر و مرتد ہیں یا صرف عند الفقہاء ہیں اور منتر متکلمین کے نزدیک نہیں ؟ اگر متکلمین کے نزدیک نہ ہوں تو کیا غیر مقلدین زمانہ متکلمین کی آڑ لے کر مسلمان بنے رہیں گے ؟ اور ان کی نماز وغیرہ صحیح ہوگی؟ اور کیا ان کا نکاح اہل سنت و جماعت کے لڑکے اور لڑکیوں کے ساتھ درست ہو گا ؟ (۲) ایک سخت غیر مقلد بلکہ غیر مقلدوں کا لیڈر جو اپنی جماعت کا صدر رہا، اہلسنت و جماعت کے خلاف کتابیں شائع کرتا رہا، حضور مجاہد ملت علیہ الرحمۃ والرضوان کے مقابلہ میں غیر مقلد عالم کو بلا کر ٹکر لیا اور ایک بار مناظرہ بھی کروایا، وہ غیر مقلد مذکور عند المتکلمین کا فرو مرتد ہے یا نہیں ؟ اس نے سنی عورت سے نکاح کیا تھا وہ نکاح درست ہو یا نہیں ؟ اور اس عورت سے ہمبستری خالص زنا ہوگی یا نہیں ؟ اور اس سے اولاد حرامی ہوگی یا نہیں؟ اور وہ سنی عورت مدت دراز تک نکاح میں رہی اور اس نکاح و ہمبستری کو حلال جانتی ہوگی، حلال جاننے کی بنا پر وہ کافرہ و مرتدہ ہوگی یا نہیں اور اس پر احکام مرتدین جاری ہوں گے یا نہیں ؟ غیر مقلد مذکور کی موت ہو گئی ، اب وہ عورت علی الاعلان تو بہ کرے گی یا نہیں ؟ وہ عورت اپنے آپ کو سنی کہلاتی ہے اور اس کی اولاد سنی کہلاتی ہے بلکہ سنی ہے۔ اب اس کی اولاد و غیر مقلد مذکور سے شرعاتر کہ پانے کی مستحق ہوگی یا مانع ارث اختلاف دو بنین کی بنا پر ترکہ سے محروم رہے گی ؟ (۳) غیر مقلد مذکور کے جنازہ میں سنی صحیح العقیدہ لوگ شریک ہوئے ، وہ کافر و مرتد ہوئے یا نہیں ؟ اگر بیوی ہے تو نکاح باطل ہوا یا نہیں ؟ (۴) اگر غیر مقلد مذکور کالڑ ک مانع ارث اختلاف دبینین کی بنا پر ترکہ سے محروم ہوا پھر اس کی جائیداد پر قبضہ کیسے ہوئے ہے، اس صورت میں اس پر شرعاً کیا حکم ہے؟ اور اس کے پیچھے نماز درست ہوگی یا نہیں ؟ فقط ۔ والسلام المستفتي: سيد عبد المسجود حبیبی سنگھا محلہ، پوسٹ بھدرک ضلع بالا سور ( اڑیسہ)۷۵۶۱۰۰
الجواب: (1) غیر مقلدین زمانہ پر حکم کفر قطعی ہے کہ وہ تقویت الایمان اور بہت سے کھلے کفریات پر سر منڈائے ہوئے ہیں لہذا ان کی اقتدا باطل محض اور انہیں دانستہ امام بنانا اور ان سے نکاح باطل محض۔ در مختار میں ہے: "لو قال لمجوسی یا استاذ تبجيلا يكفر لأن تبجيل الكافر كفر " اسی میں ہے: "لا يصلح ان ينكح مرتد أو مرتدة احدا من الناس مطلقا"(۲) کفایہ میں ہے: " اما الكافر فلا صلاة له فالاقتداء بمن لا صلاة له باطل (۳) واللہ تعالیٰ اعلم (۲) نکاح مذکور کا حال جواب سابق سے ظاہر اور اگر وہ عورت اس کے عقائد کفریہ پر مطلع ہو کر اسے مسلمان جانتی رہی یا دانستہ اس سے جماع کو حلال جانا تو اسی کی طرح مرتدہ ہوئی اور صحبت بہر حال زنا اور اولاداولاد زنا اور اولاد اس کا ترکہ نہ پائے گی اور عورت پر علانیہ تو بہ فرض ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) سخت حرام کے مرتکب ہوئے، توبہ کریں اور تجدید ایمان بھی کرلیں اور بیوی والے تجدید نکاح بھی کرلیں۔ در مختار میں ہے: "ما يكون كفرا اتفاقا يبطل العمل والنكاح واولاده اولاد زنا ،وما فيه خلاف يؤمر بالاستغفار والتوبة وتجديد النکاح ()" (1) الدر المختار، كتاب الحظر والاباحة، ج ۹، ص ٥٩١،٥٩٢ ، دار الكتب العلميه، بيروت (2) الدر المختار، کتاب النکاح، باب نكاح الكافر ، ج ٤ ، ص ٣٧٦ ، دار الكتب العلمية، بيروت (3) كفايه مع فتح القدير ، ج ١ ، ص ٣٢٤، كتاب الصلوۃ، باب الامامة، دار الكتب العلمية، بيروت (4) الدر المختار، ج 6، ص ۳۹۱، ۳۹۰، باب المرتد، دار الكتب العلمية، بيروت اسی میں ہے: " والحق حرمة الدعاء للكافر ) واللہ تعالیٰ اعلم (۴) اس کا مال مباح ہے ، اس پر استیلا سے اس کی امامت مکروہ نہ ہوگی۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم شب ۲۱ شوال المکرم ۵۱۴۰۲ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی (1) الدر المختار، كتاب الصلوة، باب صفة الصلوة، ج ۲، ص ٢٣٦ ، دار الكتب العلمية، بيروت