کسی پر داڑھی کترنے کا جھوٹا الزام لگانے والے امام کی اقتدا اور امامت کا حکم
(۳) ایک مسجد کا امام جس نے رمضان کی تراویح ایک حافظ صاحب کے پیچھے پڑھنے سے اس لئے انکار کیا کہ وہ داڑھی کے بال ترشواتے ہیں۔ معلومات حاصل کرنے پر یہ صحیح نہیں پایا تو امام صاحب سے اس کا ثبوت دینے کو کہا گیا، امام صاحب ثبوت نہیں دے سکے ۔ تو کیا ایسے امام کی اقتدا درست ہے ؟ جبکہ بغیر پختہ ثبوت کے انہوں نے ایک حافظ قرآن پر یہ الزام لگایا اور اس الزام سے حافظ صاحب کو بہت صدمہ ہوا۔ پورا محلہ قرآن مجید کے ثواب سے محروم رہ گیا۔ جواب عنایت فرمائیں۔ حافظ صاحب کے داڑھی نہیں ترشوانے کی شہادت شہر کے مولوی نے بھی دی جو کہ ایک ہی ادارے میں حافظ صاحب کے ساتھ مدرس ہیں، ان سے پوچھا گیا کہ آپ فلاں حافظ صاحب کی اقتدا کر سکتے ہیں ؟ تو فرمایا: یقینا میں ان کی اقتدا کر سکتا ہوں کیونکہ وہ صحیح ہیں اور یہ صرف ایک الزام ہے۔ المستفتی: محمد ظفر خاں پنا دھائی مارگ، شکر کوٹھی کے پاس، فتح کرن کی حویلی ، اودے پور (راجستھان)
(1) اس مکان کو رہن رکھنا جائز نہ تھا اور اسے خالی کرنا اور متولی مسجد کے سپر د کر نالازم ہے ورنہ وہ شخص اشد گناہگار مستوجب نار رہے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) فی الواقع اگر شرعی طور پر ثابت ہے کہ امام مذکور غیر محارم سے بے ضرورت شرعی بات کرتا اور ان کے ساتھ خلوت میں بیٹھتا ہے تو فاسق معلن ہے، اسے امام بنانا گناہ اور اس کی اقتدا مکروہ تحریمی اور نماز واجب الاعادہ مگر یہ کہ توبہ صحیحہ کرے اور اس کا صلاح حال ظاہر ہو جائے تو لائق امامت ہو گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) بے ثبوت شرعی کسی مسلمان کی طرف گناہ کی نسبت حرام ہے اور دانستہ بہتان باندھنا اور زیادہ سخت ہے ۔ امام مذکور پر جرم مذکور شرعا ثابت ہو تو لائق امامت نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی شب ۲۰/ ذی قعدہ ۱۴۰۲ھ