نسبندی کرانے کے بعد توبہ کرنے والے کی امامت کا شرعی حکم
دوسری بات یہ ہے کہ نسبندی آپریشن کرانے کے وقت زید کو اتنا تو معلوم تھا کہ یہ کام مذہب اسلام کے اصولوں کے خلاف ہے لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ ایسا کرنامذ ہب اسلام میں سخت ترین گناہ ہے ۔ جب زید کو اس کی اہمیت اور اسلام کے قانون اور اصولوں کی خلاف ورزی اور سخت ترین گناہ ہونے کی معلومات ہوئی تو اس نے اللہ رب العزت کے دربار میں اس گناہ سے توبہ کی ہے لیکن یہ معاملہ ایسا تو نہیں ہے کہ جس کے دوبارہ سرزد ہونے کے امکانات ہوں۔ ایسی صورت میں زید نے جو توبہ کی وہ درست ہے ؟ اور کیا وہ اس توبہ کی وجہ سے امامت کے لائق ہو گا؟ اور کیا اس کی اقتدا درست ہے ؟ جواب شرعی بشکل فتویٰ عنایت فرمائیں، فقط۔ والسلام المستفتی: محمد ظفر خاں پنا دھائی مارگ ، فتح مکران کی حویلی، اودے پور (راجستھان)
الجواب: زید کو اگر نسبندی کرانے پر مجبور کیا گیا اور جبر کردہ شرعی کی حد تک پہنچا تو اس پر اصلا کوئی الزام نہیں اور اگر مجبور نہ کیا گیا یا مجبور توکیا گیا مگر جبر اکراہ شرعی کی حد تک نہ تھا تو وہ ضرور ملزم ہوا مگر توبہ صیحہ کے بعد اس پر مواخذہ نہ رہا۔ حدیث میں ہے: " التائب من الذنب كمن لا ذنب له " گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہو جاتا ہے جیسے بے گناہ۔ اور اس وجہ سے اس کی امامت ممنوع نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله شب ۱۴/ ذوالحجہ ۱۴۰۲ء