عصر سے مغرب تک پانی پینے کی ممانعت کی شرعی حیثیت
سوال
(۳) کچھ لوگ مغرب کی نماز سے کچھ قبل جبکہ دن اور رات ملتے ہیں ، پانی پینے کو منع کرتے ہیں اور خصوصاجن لوگوں کے بچے مر جاتے ہیں ان کا پانی پینا برا جانتے ہیں تو کیا ان کا یہ کہنا درست ہے ؟ المستفتی: محمد حسین، ڈونگر سرائے سنبھل ضلع مرادآباد
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
(۳) عصر سے مغرب تک کھانا پینا شرعا ممنوع نہیں ہے ، ممنوع جاننا اور اس وجہ سے منع کرنا غلط ہے اور خود ممنوع ہے۔ ہاں بعض مشائخ کا عمل ہے اور فی نفسہ خوب ہے۔ انسان جب تک خواہشات نفسانی سے بچار ہے تو بہتر ہے اور ان لوگوں کا پانی پینا برا جاننانا جائز ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۱۵ر ذی الحجہ ۱۴۰۴ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱۲ · صفحہ ۷۵
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
کسی مسلمان کو بلا دلیل شرعی دیوبندی کہنے اور تارک نماز کو کافر قرار دینے کا حکم
باب: تکملہ
لاؤڈ اسپیکر کا استعمال نماز میں جائز نہیں!
باب: تکملہ
مسجد میں منبر کی تین سیڑھیوں کی وجہ اور سنت ہونے کا بیان
باب: تکملہ
کسی نامعلوم النسب شخص کی اولاد کے نسب کی نسبت کا حکم
باب: تکملہ
شہر کی جامع تعریف اور جمعہ و قربانی کے احکام
باب: تکملہ