کسی نامعلوم النسب شخص کی اولاد کے نسب کی نسبت کا حکم
چلی۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس کی اولاد کس قبیلہ کی طرف اپنے کو منسوب کرے ؟ اس کی اولاد کبھی اپنے کو شیخ صدیقی، کبھی خان، کبھی سید کہتی ہے۔ زید چونکہ باہر کا تھا، کس قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا معلوم نہیں۔ کیا ماں کی طرف نسبت کرتے ہوئے اسے نداف کہا جائے؟ المستفتي : محمد حامد حسین ، لوکھا، مدھوبنی (بہار)
الجواب: و شخص جبکہ خان کہلاتا تھا اور کوئی دلیل شرعی اس کے اس دعویٰ کی تکذیب پر نہیں تو اسے خان ہی ماننا لازم اور محض گمان سے اسے غیر خان جانا نا جائز کہ بدگمانی خود حرام اور بے دلیل نسب میں طعن شرعا ممنوع۔ حدیث شریف میں ہے: (1) "اثنتان في الناس وما بهم كفر الطعن في النسب والنياحة على الميت" دو خصلتیں لوگوں میں ایسی ہیں جن کا ارادہ کفر ہے (۴)، نسب میں طعن اور میت پر نوحہ کرنا۔ لہذا اس کی اولاد کو خان ہی کہیں اور اس کی اولاد بھی خود کو خان بتائے اور شیخ صدیقی و سید و نداف کہنا انہیں جائز نہیں کہ نسب شرعا باپ سے لیا جاتا ہے نہ کہ ماں سے۔ قال تعالى : " أَدْعُوهُمْ لِأَبَائِهِمْ " لوگوں کو ان کے بالوں کی طرف نسبت کرو۔ بخاری و مسلم و ابوداؤد حضرت سعد بن وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ سر کار مدینہ سرور (1) الصحيح المسلم، كتاب الايمان، باب اطلاق اسم الكفر على الطعن في النسب والنياحة ، ج ١ ، ص ٥٨ ، مجلس بركات (2) یعنی کافروں کا کام ہے. (3) الاحزاب: ٥ عالم و عالمیاں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: " من ادعى الى غير ابيه فالجنة عليه حرام (1) جو اپنے باپ کے سوا دوسرے کی طرف خود کو دانستہ منسوب کرے، اس پر جنت حرام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۱۹ر ذی الحجہ ۱۴۰۴ھ