شوہر ، ۳ر لڑکے اور ۳, لڑکیوں کے درمیان تقسیم ترکہ
جناب مولانا اختر رضاخاں صاحب! السلام علیکم لکھنا یہ ہے کہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کی بیوی کے نام ار بیگھہ ۵/ کٹھہ زمین ہے ، زید کی بیوی کا انتقال ہو چکا ہے۔ اب زید کے پاس اس بیوی سے ۳؎ لڑکا اور ۳ر لڑکی ہیں جو بالغ ہیں، سب لڑکے الگ الگ ہیں، زید دوسری شادی کر کے خود الگ رہتا ہے۔ لہذا جو زمین زید کی مرحومہ بیوی کے نام سے ہے ، اس جائیداد میں زید کا اور اس کے ۳ر لڑکے اور ۳ر لڑکیوں کا ازروئے شریعت کتنا کتنا کر کے حصہ ہوگا؟ برائے کرم تحریر کریں۔ زید کا کہنا ہے کہ ہماری مرحومہ کے نام جو بھی جائیداد ہے، اس میں ہمارا سولہ آنے میں چار آنہ حصہ ہوتا ہے، باقی بارہ آنے میں لڑکا اور لڑکی سب کا ہو گا۔ المستفتی: شمر اللہ خاں، این بی برو تھ (کلاتھ مرچنٹ) ٹھا کر باری روڈ بیرات نگر (نیپال) وایہ پوسٹ جو گدانی ضلع پورنیہ ، بہار
الجواب: مسئلہ میت ۳۶ - ۹۴ بر تقدیر صدق سوال و انحصار ورثه در مذکورین بعد تقدیم ما تقدم وادائے دیون وغیرہا کل ترکہ مرحومہ ۳۶ / سہام پر تقسیم ہو گا جن میں سے ۹ر سہام شوہر (زید) کو اور ۶-۶- سہام ہر لڑکے اور -۳ ر سہام ہر لڑکی کو ملیں گے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله شب ۲۹/ ذی الحجہ ۱۴۰۴ھ