دو بیویوں کی اولاد اور سوتیلے بچوں کے درمیان تقسیم ترکہ کا شرعی طریقہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ جناب نیاز اللہ خاں کی پہلی بیوی سے تین لڑکے (محمود حسین خاں، محمد عمر خاں، محمد نور خاں)، ایک لڑکی (سروری بیگم ) ہیں۔ نیاز اللہ خاں کی پہلی بیوی ان کے سامنے فوت ہوگئی تب نیاز اللہ خاں نے دوسرا نکاح بیوہ چھوٹی بیگم کے ساتھ کیا جو اپنے ساتھ ایک لڑکا (ارشادحسین جو کہ چھوٹی بیگم وان کے پہلے شوہر سے تھا) ساتھ لے کر آئیں۔ نیاز اللہ خاں و چھوٹی بیگم سے ایک لڑکی (فردوسی بیگم) پیدا ہوئی۔ نیاز اللہ خاں کا انتقال ۱۹۵۸ء میں ہوا، ان کی دوسری بیوی چھوٹی بیگم کا انتقال ان کے بعد ۱۹۷۲ء میں ہوا۔ نیاز اللہ خاں کی جائیداد میں سے کس کس کو کتنا کتنا حق پہنچتا ہے ؟ اور چھوٹی بیگم کو جو شوہری حق پہنچا اس میں ارشاد حسین و فردوسی بیگم کو کتنا کتنا پہنچا؟ قرآن و حدیث کی رو سے جواب عنایت فرمائیں۔
الجواب: بر تقدیر صدق سوال و انحصار ورثه في الهمذ کورین کل ترکہ نیاز اللہ و چھوٹی بیگم بعد تقدیم ما تقدم وادائے دیون و غیر ہا۱۹۲ر سہام پر تقسیم ہو گا جن میں سے ۴۲-۴۲/ سہام نیاز اللہ کے ہر پسر کو اور ۲۱ سہام سروری بیگم کو اور ۱۶/ سہام ارشاد حسین اور ۲۹ سہام فردوسی بیگم کو ملیں گے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ ۱۵ محرم الحرام ۱۴۰۵ھ