ٹائی کا استعمال، کالر والی قمیص میں نماز، جعدہ بنت اشعث اور حضرت ابو شحمہ کا واقعہ
حضرت ابو شمر حضرت عمر کے صاحبزادے ہیں! کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ (1) انگریز صلیب کی جگہ ٹائی لڑکاتے ہیں اور بعض مسلمان بھی اسے فیشن کے طور پر استعمال کرتے ہیں تو کیا ایسا مسلمان دائرہ اسلام سے خارج ہے؟ اور اس پر توبہ و تجدید ایمان واجب ہے ؟ (۲) کالر دار قمیص پہنے کی حالت میں گلے کا کچھ حصہ کھلا رہ جاتا ہے اور سینہ کی بڑی دکھائی دیتی ہے تو ایسی حالت میں نماز مکروہ تحریمی ہوگی یا تنزیہی ؟ اور اگر مکروہ تحریمی ہوگی تو اس کی وجہ کراہت کیا ہے ؟ بدلائل بیان فرمائیں۔ (۳) حضرت سید نا امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زہر خورانی کی نسبت جعدہ بنت اشعث بن قیس کو دینا کیسا ہے ؟ (۴) امیر المومنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کیا کسی صاحبزادہ کا نام نامی اسم گرامی حضرت ابو شحمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے ؟ جنہوں نے ایک یہودی کے ورغلانے پر شراب نوشی کی اور اس نشہ کی حالت میں زنا بھی کیا ؟ جس پر حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے حد جاری فرمائی ؟ اس واقعہ کی تفصیل و تحقیق بحوالہ کتب فرماکر عند اللہ ماجور وعند الناس مشکور ہوں۔ المستفتی: قاضی محمد عطاء الحق عثمانی قادری رضوی گونڈوی علاؤالدین پور ، ڈاکخانہ سعد اللہ نگر ضلع گونڈہ، (يو . بي )
الجواب: (1) ہاں، جو شخص ٹائی کو شعار نصاری اور ان کی مذہبی نشانی جان کر استعمال کرے وہ ضرور اس حکم کا مستوجب ہے مگر عام مسلمان اس سے بے خبر ہیں وہ صرف ایک زینت و آرائش سمجھتے ہیں تو ان کا یہ حکم نہیں، البتہ انہیں اس سے احتراز لازم ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) اس صورت میں کراہت تحریمی ہوگی۔ هكذا سمعنا عن الجد المفتى الاعظم قدس سره. و قال رسول الله علی لیالی "أزرره ولو بشوكة " والله تعالى اعلم (۳) تاریخ الخلفاء امام اجل جلال الدین سیوطی و نور الابصار واسعاف الراغبین وغیرہا میں جعدہ ہی کی طرف اس امر کی نسبت ہے، جو شخص ان مصنفین معتمدین کی اتباع میں اس کی طرف نسبت کرے وہ ملزم نہیں اور جو توقف کرے تو اس کے لئے بہتر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) حضرت ابو شحمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادہ ہیں، ان کی طرف زنا کی نسبت غلط ہے۔ نبیذ پینے کے سبب نشہ ہو گیا تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مدینہ امینہ علی منور با التحیة والسلام میں حد قائم فرمائی اور آپ بیمار ہو کر انتقال فرما گئے۔ اللآلی المصنوعہ میں ہے: " فيه مجاهد عن ابن عباس في حديث ابى شحمة ليس بصحيح وقد روى من طريق عبد القدوس بن الحجاج عن صفوان عن عمر وعبد القدوس كذاب يضع وصفوان بينه و بين عمر رجال والذي ورد فى هذا ما ذكره الزبير بن بكار و ابن سعد فى الطبقات وغيرهما أن عبد الرحمن الأوسط من أولاد عمر و يكنى أبا شحمة كان بمصر غازياً فشرب ليلة نبيذا فخرج الى السكر فجاء إلى عمرو بن (1) سنن ابی داؤد، كتاب الصلوة، باب فى الرجل يصلى فى قمیص واحد، ص ۹۲ ، فیصل پبلکیشنز العاص فقال أقم على الحد فامتنع فقال له أخبر أبى إذا قدمت عليه فضربه الحد في داره ولم يخرجه فكتب إليه عمر يلومه ويقول ألا فعلت به ما تفعل بجميع المسلمين فلما قدم على عمر ضربه واتفق أنه مرض فمات". والله تعالى اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله (1) اللآلى المصنوعة فى الاحاديث الموضوعة كتاب الاحكام والحدود، ج ۲، ص ١٦٧ ، بركات رضا