نبی اکرم ﷺ کے آباؤ اجداد کے مومن وموحد ہونے اور آزر کے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا چچا ہونے کا بیان
حضور اکرم نور مجسم رحمت عالم علیہ الصلاۃ والسلام کے والدین کریمین سید نا حضرت آدم علیہ السلام تک تمام کے تمام مسلمان موحد و اہلیان جنت ہیں؟ آزر ابوالانبیاء سیدنا حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلاۃ والسلام کا چا تھا کہ والد ؟ فقط
الجواب: مومن محمد شمیم احمد، کوٹرگیٹ بھیونڈی ضلع تھانہ ۲۱ نومبر۱۹۸۶ء اس مسئلہ کا جواب سابق فتویٰ میں قدرے تفصیل سے دے چکا ہوں۔ اس جگہ مختصر گزارش کرتا ہوں کہ جمہور کا مسلک یہ ہے کہ آزر حضرت ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کا باپ نہ تھا بلکہ چچا تھا، اپنے پہلے فتوی میں میں نے ”الشہیر بن کثیر کی عبارت بھی لکھی ہے اور ابن جریر طبری کی عبارت مفسرین کشیرین آخرین تحریر ہوئی اور اسے مقرر رکھا، اس کا جواب بھی اسی فتویٰ میں دیا گیا۔ ابن جریر طبری کا قول بکثرت علمائے احناف کے خلاف ہے اور انہوں نے جو مقدر اسماء کا احتمال ظاہر کیا ہے اس سے استدلال محتمل سے استدلال ہے جو درست نہیں۔ یہاں روح المعانی کی سند اپنے دعویٰ پر پیش کروں کہ دونوں منسلک تحریروں کا جواب ہوا اور دونوں مضمون نگاروں کے لئے واجب القدر ہو کہ روح المعانی دیو بندیوں کے یہاں خصوصیت سے مستند ہے۔ روح المعانی کی عبارت سے بحمدہ تعالیٰ دوسری تحریر میں مضمون نگاروں کی عیاری بھی ظاہر ہوگی کہ روح المعانی کی عبارت کا اتنا نکٹر نقل کیا ہے جو اپنے لئے مفید جانا اور باقی کو چھپالیا۔
روح المعانی کی عبارت یہ ہے : والذي عول عليه الجم الغفير من اهل السنة أن آزر لم يكن والد ابراهيم عليه السلام وادعوا انه ليس في آباء النبي صلى الله عليه وسلم كافر اصلا لقوله عليه الصلاة والسلام لم ازل أنقل من أصلاب الطاهرين ارحام الطاهرات والمشركون نجس وتخصيص الطهارة بالطهارة من السفاح لا دليل له يعول عليه وقد الفوا في هذا المطلب الرسائل استدلوا وله بما استدلوا و اكثر هؤلاء على ان آزر اسم العم ابراهيم عليه السلام - الخ ملتقطا ۔ (۱) یعنی جمہور اہل سنت کا معتمد یہ ہے کہ آزر ابراہیم علی نبینا وعلیہ السلام کا باپ نہ تھا، اور سنیوں کا دعویٰ یہ ہے کہ حضور پاک کے آبائے کرام میں کوئی کافر نہ ہوا، اس لئے کہ سرکار علیہ السلام نے فرمایا کہ میں پاکوں کی پشتوں سے ماؤں کے شکم میں منتقل ہوتا رہا اور مشرکین ناپاک ہیں اور پاکی سے زنا سے منزہ ہونا مراد لینا بلا دلیل ہے اور علماء نے اس مطلب میں رسالے لکھے اور دلائل قائم کیے اور اکثر علماء کا مذہب یہ ہے کہ آزر ابراہیم علیہ السلام کے چچا کا نام ہے۔ دوسری تحریر میں روح المعانی کی عبارت نقل کی: "وآزر بزنة آدم علم اعجمی لابی ابراهیم علیه السلام" اس کے بعد دوسرے سطر میں اسی روح المعانی میں تحریر ہوا: "وقال الزجاج ليس بين النسابين اختلاف في أن اسم ابى ابراهيم عليه السلام تارح - الخ (۲) اسی میں چند سطر کے بعد تحریر ہوا: "والى كون آزر ليس اسما له ذهب مجاهد وسعيد بن المسيب وغيرهما واختلف الذاهبون الى ذالك فمنهم من قال ان آزر لقب لأبيه عليه السلام ومنهم من قال اسم جده ومنهم من قال اسم عمه (۳) مضمون نگار کی ہوشیاری کہ روح المعانی سے وہ پہلے فقرہ اپنے مفید مطلب نقل کر لایا اور اس کے بعد کی عبارتیں اڑا گیا جن سے اختلاف اقوال کا پتہ چلتا اور خود صاحب روح المعانی کا آخری فیصلہ بھی (۱) تفسير روح المعانی، ج ۷، ص ١٩٤، ١٩٥ ، سورة الانعام، دار إحياء التراث العربي، بيروت (۲) تفسیر روح المعانی، ج۷، ص ١٩٤، سورة الانعام، دار إحياء التراث العربي، بيروت (۳) تفسير روح المعانى، ج ۷، ص ١٩٤ سورة الانعام، دار إحياء التراث العربي، بيروت چنداں ذکر نہ کیا۔ یہی حال دوسری تحریر میں الاتقان کی عبارت نقل کرنے کا ہے کہ ایک عبارت اپنے مفید مطلب لکھی اور دوسری عبارت جس سے امام سیوطی کا معتمد و مختار قول معلوم ہو، اصلاً ذکر نہ کی۔ ہم نے وہ عبارت سابقہ فتویٰ میں نقل کی جو یوں ہے: اسم ابيه تارخ وقيل آزر وقيل..." اسی سے صاف ظاہر ہے کہ ان کے نزدیک ابراہیم علیہ السلام کے باپ کے نام کے سلسلہ میں پہلا قول مختار ہے کہ ان کا نام تاریخ ہے اور آزر نام ہونا ان کے نزدیک ضعیف ہے اور جب ان کا مختار و معتمد مذہب معلوم ہو لیا تو جلالین کی عبارت میں جو وارد ہوا وہ مرجوع عنہ ہے جس سے سند لانا مضمون نگار کی طرفہ سفاہت ہے اور پہلی تحریر کا امر اختلافی مسئلہ کو عقیدہ ٹھہرایا اور اس پر عقیدہ فائزہ کا حکم لگانا کمال حماقت و نہایت جرات ہے جو اجلہ علماء تک پہنچی اور ان کے مسلک کو ضعیف ٹھہرانا طرفہ جہالت ہے اور تفسیر حقانی کے مولف شیخ عبد الحق محدث دہلوی کو برخطا بتادینا دیو بندی مفتی کی دنیائے علم میں غریب الوطنی کی روشن دلیل ہے ، مفردات کی عبارت کا جواب بھی سابقہ فتویٰ میں کر دیا جا چکا ہے، اسی میں ملاحظہ کریں اور جو روایات ذکر ہوئیں ان میں وارد لفظ اب قابل تاویل ہے اور اجلہ علمائے اہلسنت بلکہ جمہور کا جو مذہب ہے وہ معلوم ہو چکا لہذا اس کی موافقت ضرور اور اگر یہ نہ ہو سکے تو توقف اور سکوت کیوں نہ اختیار کریں۔ حالانکہ پہلی تحریر میں صاف لکھا حضور نبی اکرم علی کے والدین مرحومین کے سلسلہ میں دلائل و براہین قاطعہ و اقوال حقہ علمائے اہل سنت و جماعت کے راجح اقوال نیز خاتم النبیین جناب محمد رسول اللہ علی السلام کے عظمت و شرافت کے پیش نظر اس میں سکوت اختیار کیا جائے۔ اس نازک بحث میں پڑا ہی نہ جائے۔ اس کا عقیدہ سے تعلق نہیں اس لئے سکوت بہتر ہے۔ کاش دیوبندی مفتی اور ڈاکٹر صاحب تحریر ثانی حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی عظمت و معرفت نسبت کو ملحوظ رکھتے اور جمہور سلف و خلف کا ساتھ دیتے یا سکوت ہی کرتے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ا علی شاد فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله ۱۹ ربیع الآخر ۷ ۱۴۰ھ