سنی مسلمانوں کو کافر کہنے والے پیر پر شرعی حکم اور اس کے پیچھے نماز کا حکم
آیا تو ہم یہ فیصلہ لینے پر مجبور ہوں گے کہ ہمارا کفر کچھ بھی نہیں ہے اور شریعت کا مسئلہ اپنی جگہ پر قائم رہے گا۔ تقریباً مہینہ سوا مہینہ کا عرصہ تک گزر چکا ہے، پیر صاحب موصوف سے اس سلسلے کا اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ سنی مسلمانوں کو کافر کہ دینے کی وجہ سے پیر صاحب پر کیا حکم شرعی عائد ہوتا ہے ؟ کیا ان سے مرید ہونا، ان کی اقتدا میں نماز پڑھنا از روئے شرع درست ہے ؟ اور اب تک جتنی نمازیں ان کی اقتدا میں پڑھی گئیں اور جو لوگ ان سے مرید ہو چکے ہیں ان کے لئے کیا حکم ہے؟ اور ایسی تنظیم کا بائیکاٹ کرنے والوں کے لئے کیا حکم ہے ؟ جواب با تفصیل قرآن و حدیث اور فقہ حنفی کی روشنی میں عنایت فرمائیں۔ المستفتیان حاجی لقمان ، حاجی عبدالستار جبیبی، حاجی عثمان نفنی جیبی حاجی سلیم حبیبی، حاجی عثمان علی حبیبی، لیاقت علی جیبی، بھدرک ، اڑیسہ
الجواب: حدیث میں ہے: (1) ايما مسلم قال لأخيه ياكافر فقد باء به احدهما ان كان كما قال وإلا رجعت عليه جو مسلمان اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہے تو ان دو میں ایک ضرور کافر ہے ، اگر وہ ایسا ہی ہے جیسا کہ اس نے کہا تو وہ کافر ور نہ کہنے والے پر کفر لوٹ جائے گا۔ فقہائے کرام نے اس حدیث کے ظاہر کو مد نظر رکھتے ہوئے فرمایا جو بے وجہ شرعی کسی مسلمان کو کافر کہے وہ خود کافر ہے اور متکلمین کے نزدیک تفصیل ہے اور وہ یہ کہ اگر قائل نے یہ جملہ دشنام کے طور پر کہا تو سخت گنہگار ہوا مگر کافر نہ ہو گا اور مسلم کو کا فرجان کر بے وجہ مکفر نے یہ لفظ کہا تو قطعا کفر ہے۔ بہر حال بر تقدیر صدق سوال و ثبوت مقال قائل پر دونوں صورتوں میں تو بہ لازم ہے اور تجدید ایمان بھی کرے۔ (1) الصحيح لمسلم، كتاب الايمان، باب بيان حال الايمان من قال لاخيه المسلم يا كافر ، ج ۱، ص ٥٧ ، مجلس بركات در مختار میں ہے: " وما فيه خلاف يؤمر بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح اور ان سے مرید ہونا اور ان کی اقتداء میں نماز پڑھنانا جائز ہے۔ اس واقعہ کے بعد سے اب تک جیتنی نمازیں پڑھی گئیں دہرائی جائیں اور ان کی بیعت فسخ ہو گئی۔ جو لوگ ان سے مرید ہو چکے ہیں وہ کسی جامع شرائط بیعت سے مرید ہو سکتے ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۱۲/ رمضان المبارک ۱۴۰۸ھ (1) الدر المختار، ج ٦ ، ص ۳۹۱ ۳۹۰ ، باب ،المرتد، دار الكتب العلميه، بيروت