علم غیب، نماز کے مسائل، میلاد شریف، مزارات کی حاضری اور ائمہ اربعہ سے متعلق سوالات
غیب جانتے تھے یا ان پر عالم الغیب کی طرف سے وحی کے ذریعہ خبر بھیجی جاتی تھی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم الغیب کہنا جائز ہے یا نہیں اور کیا حکم ہے ؟ اگر ہے تو فرض ہے یا واجب ہے سنت ہے یا مستحب یا مندوب ہے یا بدعت اور امام اعظم اور امام شافعی کے نزدیک نماز کا اختتام کس دعا پر ہے۔ نیز امام اعظم کے اختتام نماز کے مطابق نماز کے اندر کسی بھی رکن میں درود شریف پڑھا جاتا ہے یا نہیں اور میلاد شریف کی ایجاد کب ہوئی اور مزار پر جانا چادر چڑھانا اور ان بزرگوں سے دعا کی درخواست کرنا کیسا ہے کیا صحابہ کرام و تابعین کے زمانے میں یہ رائج تھا نیز قرون ثلاثہ اور ائمہ مجتہدین کے وقت سے ہے اسکا کوئی ثبوت ملتا ہے یا نہیں ؟ خلافت راشدہ کے دور خلافت کی کیا مدت ہے امام اعظم و امام مالک و امام شافعی و امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہم ان ائمہ کرام نے کتنی کتنی عمر پائیں اور وہ اپنی اپنی اس طویل عمر میں کسی بھی امام کو ایک بار بھی جشن میلاد شریف کا خیال دلوں کو چھوایا نہیں ائمہ اربعہ میں سے ہر ایک کا کیا مسئلہ ہے اور امام اعظم اور امام شافعی کا کیا اختلاف ہے اور دونوں صاحبین نے اپنے اپنے قول کو کس طرح سے باطل کئے ہیں اور امام شافعی عدم جواز کے قائل نہیں ہیں اور امام اعظم ان کے قول کی تردید کس طرح کرتے ہوئے جواز کے قائل ہوئے ؟ قرآن مجید فرقان حمید نے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام میں سے بیشتر کا تذکرہ کیا ہے اور ان سبھوں کی عظمت و بزرگی بیان کی ہے مگر کسی بھی نبی کے واسطے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انکی ولادت کی تاریخوں میں کوئی جشن میلاد شریف منائے ہیں یا اسکی ہدایت فرمائے ہیں خود آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تریسٹھ سالہ زندگی میں تریسٹھ ربیع الاول گذرے ان میں ایک بار بھی میلاد شریف کے جشن کا پتہ چلتا ہے یا نہیں قرآن شریف و احادیث نبوی کی روشنی میں سمجھا کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں اللہ تبارک و تعالی آپکو جزائے خیر دے گا۔ فقط، والسلام المستفتی: ماسٹر محمد وسیم اصلاحی، کیراف ماسٹر محمد رضاء اللہ اردو اسکول، نانپور پوسٹ وایا جنگپور رو ضلع سیتا مڑھی (بہار)
الجواب: بے شک چاہیے کہ مستحب ہے اور ذکر میلاد شریف وقیام و فاتحہ میں سے کوئی امر ناجائز و حرام و بدعت سیئہ نہیں کہ حرام وہ ہے جسے خدا اور رسول جل جلالہ وصلی اللہ علیہ وسلم منع فرمائیں اور جس سے خدا اور سول منع نہ فرمائیں وہ ہر گز ہر گز حرام نہ ہو گا بلکہ جائز قرار پائے گا اور اسے بہ زور زبان حرام کہنا ہی حرام۔ چنانچہ قرآن عظیم فرماتا ہے: وَلا تَقُولُواْ لِما تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَذَا حَلاَلٌ وَهَذَا حَرَامٌ - الآية ( (1) یعنی اپنی زبانوں سے نہ کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے۔ تو جو بغیر منع شرعی ان امور سے منع کرے وہ خود ہی حرام کا مرتکب اور قرآن عظیم کا مذب و مخالف ہے اور ہم اہلسنت و جماعت کے لئے یہی دلیل بس ہے کہ قرآن و حدیث میں کہیں ممانعت نہ آئی چنانچہ علماء اس لئے فرماتے ہیں کہ اس میں اصل اباحت ہے پھر یہ امر ایسا ہے کہ صدہا برس سے تمام دیار وامصار کے جملہ مسلمان جن میں صدہا علماء اعلام بھی شامل حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر میلاد شریف اور اس میں قیام کرتے چلے آئے اور مسلمانوں کا ایسا عمل شرع شریف کی نگاہ میں بڑی وقعت رکھتا ہے ۔ حدیث شریف میں ہے: "مارأه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن مسلمان جسے اچھا مجھیں وہ اللہ کے نزدیک اچھا ہے۔ (۲) ،، بلکہ قرآن اسے سبیل مومنین بتاتا ہے اور اس سے پھرنے والے کو دشمن خد اور سول علیہ السلام فرماتا اور اسے جہنم کی سزا سناتا ہے۔ (1) النخل-١١٦ (2) مسند امام احمد بن حنبل، ج ۲، ص۱۸، حدیث نمبر ٣٦٠٠، باب مسند عبد الله بن مسعود، عالم الكتب، بيروت لبنان قال تعالى : وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَ يَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءتْ مَصِيراً (1) اور سائل یہ کیوں پوچھتا ہے کہ فلاں کی ایجاد کب ہوئی ؟ (۱) کیا اس کے نزدیک حلال و حرام کی بنا کسی مخصوص زمانے پر ہے؟ (۲) کیا ائمہ مجتہدین بلکہ صحابہ و تابعین کے زمانے کی پیدا وار اور انکے معتقدات کو مسائل سنت کہ سکتا ہے ؟ (۳) اگر سنت کہتا ہے تو آپ کھلا گمراہ ہے اور اگر بدعت کہتا ہے تو خود اس کے اقرار سے ظاہر کہ بدعت وہ جو قرون ثلاثہ کے بعد ہو بلکہ بدعت وہ ہے جو شرع کے مخالف ہو تو سائل پر پھر یہ ذمہ داری آن پڑی کہ وہ ثابت کرے کہ یہ امور خلاف شرع ہیں اور وہ یہ بھی ثابت کرے کہ قرون ثلثہ کے بعد جو ہو وہ بدعت سیئہ اور اگر ثابت نہ کر سکے اور ہم کہے دیتے ہیں کہ وہ ان شاء اللہ ہرگز قیامت تک ثابت نہ کر سکے گا تو اس کا اور تمام دیابنہ کا یہ دعویٰ کہ قرون ثلاثہ کے بعد جو کچھ ہو وہ بدعت سیئہ ہے خود بدعت ہے اور وہ اس قول سے خود بدعتی ہیں۔ (۴) اور سائل کا یہ سوال کہ ائمہ کرام کے دلوں کو میلاد کا خیال چھوا کہ نہیں نہ اسے کچھ مفید نہ ہمیں کچھ مضر نہ اس پر کسی کام کی حرمت کا مدار ورنہ بہت سے کاموں کے بابت اگر یہ ثابت نہ ہو کہ ائمہ اربعہ کے دلوں میں اس کا خیال گذرا ہو تو وہ سب کام حرام ٹھہریں گے پھر سائل ہمیں سے کیوں پوچھتا ہے خود اس پر دلیل کیوں نہیں قائم کرتا کہ ائمہ کے بڑوں نے جشن میلاد نہ کیا ذرا بتائے تو ہی کہ اس نے کہاں سے یہ جانا کہ ائمہ اربعہ نے یہ کام نہ کیا اور یہ بھی بتائے کہ کوئی کام صادر نہ ہونا اور کسی کام سے خود کو روکنا دونوں ایک بات ہے اور دونوں کا مفاد ایک ہے یادونوں ایک دوسرے سے جدا؟ معمولات اہلسنت کے لئے یہ سوالات ہیں اور مودودیوں کے جلسئہ سیرت اور دیگر محافل پر یہ سوالات کیوں نہیں اور ائمہ اربعہ کی مدت کتنے سال ہوئی مگر اس سے اور ائمہ کی عمروں سے سائل کو کیا دارو مدار اور ہم حنفی ہیں ہم پر اپنے مذہب حنفی ہی کا بیان لازم ہے ۔ (1) النسا-١١٥ فقیر کی نظر میں اس امر کے استحباب میں کسی مستند و معتمد کا خلاف معلوم نہیں نادر البعض نے خلاف کیا بھی تو جماہیر علماء نے اسے مقرر نہ رکھا چنانچہ علامہ امام جلال الدین سیوطی نے اس باب میں مستقل رسالہ لکھا جس کا نام حسن المقصد فی عمل المولد رکھا اور اسی میں مخالف منفرد کے کلام کا ضرور ضرور ذکر کیا اور علامہ بن حجر ہیمی کی اور ملاعلی قاری و غیر ھمانے بھی اس باب میں تصنیف فرمائی پھر کتب حدیث وسیر میں اس کا تذکرہ خود اس کے استحباب کی دلیل ہے اور ہر زمانے کے علماء کے نزدیک اس کا مہتم بالشان ہونا اسی سے ظاہر ہے اور جب وہ اتنا مہتم بالشان ہے تو قرین قیاس نہیں کہ علماء نے اس کا تذکرہ محافل و مجامع میں نہ کیا ہو بلکہ یہی ظاہر ہے کہ ضرور ہر زمانے میں علماء نے حضور علیہ السلام کے ذکر میلاد مبارک کی محافل آراستہ کیں اور سائل کا یہ سوال کہ کسی بھی نبی کے واسطے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم - الخ“ ہماری تقریر بالا سے ساقط ہے کہ نہ کرنا اور ہے اور منع کرنا دیگر ، علاوہ ازیں کسی امر کا منقول نہ ہونا اور ہے اور سرے سے نہ ہونا اور ہے۔ پھر قرآن عظیم نے حضرت عیسی علیہ السلام کے بابت فرمایا: وَسَلَامٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ - الآية () ان پر سلام ہو جب وہ پیدا ہوئے۔ اور اسی قرآن عظیم میں ہے کہ عیسی علیہ السلام نے خود فرمایا: وَالسَّلَامُ عَلَى يَوْمَ وُلِدتُ - الآية (۲) میرے اوپر سلام ہو۔ یہ دونوں آیتیں جواز ذکر میلاد کے لئے بس ہیں اور قرآن عظیم کے بعد کسی ثبوت کی حاجت نہیں پھر یہی قرآن ہمارے حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد آمد کا تذکرہ کس اہتمام کے ساتھ فرما رہا ہے ایمان کی آنکھیں رکھے تو کوئی دیکھے۔ (1) مريم-١٥ (2) مريم- قال تعالى : قَدْ جَاء كُم مِّنَ اللهِ نُور - الآية “ و قال تعالى: (۱) ،، لَقَدْ جَاءكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ - الآية “ (۲)،، بلکہ اپنے رسول کی امت کو حکم دے رہا ہے کہ ان کے دم قدم کی خوشی مناؤ۔ قال تعالى : " قُلْ بِفَضْلِ اللهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا (۳) اے محبوب بھی یہ ہی لیا تم فرماؤ اللہ کے فضل اور اسکی رحمت سے تو فضل الہی سے خوش ہوں۔ مفسرین فرماتے ہیں ، فضل اللہ ورحمت حضور پلی اسی لیے ہمیں تو آیت ذکر میلاد کے حکم کو تضمن ہوئی۔ پھر حضور علیہ السلام نے اپنا میلاد خود بیان فرمایا: "بعثت من خير قرون بنی آدم قرنا فقرنا حتى كنت من القرن الذي كنت منه". (۳) یعنی میں بنی آدم کے بہترین صفات کے ساتھ یکے بعد دیگرے منتقل ہو تا رہا یہاں تک کہ اس طبقہ میں ہوا جس طبقہ میں پیدا ہوا یہی علامہ اجل دوسری حدیث حضرت عباس رضی اللہ سے روایت کرتے ہیں یونہی بیہقی نے دلائل النبوۃ میں اور ترمذی نے بافادہ حسن روایت کیا کہ حضور علیہ سلام نے فرمایا: هم ان الله خلق الخلق فجعلنى فى خيرهم ثم جعلهم فرقتين فجعلني في خير فرقة ثم جعلهم قبائل فجعلنى فى خيرهم قبيلة ثم جعلهم بيوتا فجعلني في خير هم بیتا و خیر هم نفسا (۵) (1) المائدة - ١٥ (2) التوبة-١٢٨ (3) يونس - ٥٨- (4) صحیح البخاری، کتاب المناقب، باب صفة النبي ﷺ ، ج ۱، ص ٥٠٣ ، دار الكتب العلمية، بيروت (5) جامع الترمذى، ابواب المناقب عن رسول الله ، باب ما جاء في فضل النبي ﷺ ، ج ۲، ص ۲۰۱، مجلس بركات یعنی اللہ تعالیٰ نے خلق کو پیدا فرمایا تو مجھے بہترین (انسان ) مخلوقات کے بہترین طبقہ میں رکھا پھر اللہ تعالی نے قبائل کو چھانی مجھے بہترین (قریش) میں رکھا پھر اللہ تعالی نے قبائل کے بطنوں کو چنا تو مجھے بهترین بطن ( بنوهاشم) میں رکھا تو میں سب سے بہتر ذات اور سب سے بہتر حسب والا ہوں۔ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ