شراب نوشی اور جوئے بازی کے عادی شوہر سے طلاق اور نکاح کی حیثیت کا حکم
میری رخصتی نہیں ہوئی۔ میرے والدین نے محمد قاسم جو میرے شوہر ہیں ، غلط اطوار وعادات کی بنا پر اب تک رخصتی نہیں کی کیونکہ میرے شوہر کو عادت ہے شراب نوشی اور جوئے بازی کی۔ اور میں خود بھی اس کے پاس جانا نہیں چاہتی اور نہ ہی میرے والدین بھیجتے ہیں اور نہ ہی میرے شوہر مجھے طلاق دیتے ہیں۔ برادری نے پنچایت کر کے محمد قاسم پر کافی زور ڈالا مگر اس نے طلاق نہیں دیا۔ بالآخر برادری سے اس کا بائیکاٹ کر دیا گیا۔ پھر بھی وہ طلاق نہیں دیتے۔ اب میں کیا کروں ؟ شریعت مطہرہ کی روشنی میں ہاتفصیل جواب مرحمت فرمائیں۔ بینوا توجروا۔
الجواب: المستقي رضیہ بیگم بات شیخ رمضان، مولا بخش، اکوله تفصیل سے سوال کیا جائے محمد قاسم ہنگام نکاح بالغ تھا یا نہیں ؟ اگر بالغ تھا تو شراب نوشی کی عادت اس میں اس وقت تھی یا نہیں ؟ اور اگر اس وقت یہ عادت تھی تورضیہ کے والد کو ہنگام نکاح اس کا علم تھا یا نہیں؟ نیز یہ بھی لکھیں کہ رضیہ کے والد نے یہ نکاح خود کیا یا اس کی وکالت سے کسی اور نے ؟ اگر رضیہ کے والد کے وکیل نے یہ نکاح کیا تورضیہ نے بعد بلوغ یا بالغ ہو کر اسے جب نکاح کا علم ہوا، اس نکاح کو فوراً رد کر دیا یا توقف کیا ؟ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۱۳ جمادی الآخره ۱۴۰۴ھ