حضور علیہ السلام کا علمِ ما کان و ما یکون اور مستقبل کی خبریں
(۳) ان ہی کا کبھی یہ کہنا ہے کہ حضور یہ نہیں بتا سکتے تھے کہ کل کیا ہوگا اور کس کی موت کب آئیگی میں نے قرآنی تقریر سے ثابت کیا لیکن اس سے انکار کر دیا اس کے بارے میں کیا حکم
(۳) ان کا دعویٰ قرآن کریم اور احادیث صحیحہ کے صریح خلاف ہے۔ قرآن کریم صاف فرماتا ہے: وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ۔ اللہ نے تمہیں وہ سب بتادیا جو تم نہ جانتے تھے، اس میں تمام ما کان و ما یکون گزشتہ و آئندہ کا علم داخل ہے۔ اور بخاری کی حدیث میں وارد ہوا کہ حضور سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک بارکھڑے ہو کر جب سے قیامت تک جو کچھ ہونے والا تھا،سب بیان فرمادیا۔ مسلم شریف میں ہے: ابتدائے خلق سے لوگوں کے جنت و دوزخ میں جانے کا سب حال بیان فرما دیا۔ اور تفصیل کے لئے انباء المصطفیٰ رسالہ سید نا اعلیٰ حضرت دیکھئے۔ مولوی وجیہ الدین پر لازم ہے کہ وہ آیت قطعی الدلالۃ یا حدیث صریح سے اس کا استثناء ثابت کریں اور قیامت تک ثابت نہ کر سکیں گے ان شاء الکریم اور استثنا کیونکر ثابت کریں گے کہ استثنا ہی نہیں اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام تو بہت ارفع و اعلیٰ ہیں حضور علیہ السلام کے صدقہ میں حضور کے غلام بتا دیتے ہیں کہ فلاں کیا کرے گا۔ امام جلال الدین سیوطی نے شرح الصدور میں ایک طویل حدیث لکھی جس میں حضرت صعب بن حشامہ صحابی نے وصال کے بعد حضرت عوف سے کہا: و اعلم ان ابنتی تموت الى ستة ايام فاستوصوابها معروفا یعنی جان لو کہ میری بیٹی چھ دن میں مرجائیگی تو اس کے ساتھ بھلائی کرو۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور مناقب علی کرم اللہ وجہہ میں حدیث وارد ہوئی کہ حضور نے فرمایا کہ کل جھنڈا اسے دوں گا جس کے ہاتھوں پر خدا خیبر کو فتح فرمائے گا۔ دیکھو نورالابصار فی مناقب آل بيت النبي المختار وغیرہ ۔ واللہ تعالیٰ اعلم