حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے کاتبانِ وحی ہونے کا ثبوت
سوال
(۲) دوسرا مسئلہ حضور نے قرآن حضرت علی سے لکھوایا میں نے کہا کہ حضرت معاویہ سے لکھوایا اس کو بھی نہیں مانا۔ اس کا حکم کیا ہے؟
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
(۲) حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی لکھا ہے اور معاویہ وزید بن ثابت رضی اللہ عنہما اکثر لکھتے تھے اور جملہ کا تبان وحی یہ ہیں : عثمان بن عفان ، علی مرتضی ، ابی ابن کعب، زید بن ثابت، معاویہ، خالد بن سعید بن العاص، ابان بن سعید ، علاء بن حضرمی، حنظلہ بن الربیع ، عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح ( حضرت عثمان کے رضاعی بھائی ) رضی اللہ عنہم۔ نور الابصار میں ہے: فهؤلاء كتاب الوحی رضی الله عنهم اجمعین ۔ واللہ تعالیٰ اعلم
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱ · صفحہ ۳۳۲–۳۳۶
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
حضور علیہ الصلاۃ والسلام یا کسی نبی کے علم غیب کی مطلقا نفی کفر ہے
باب: کتاب العقائد
حضور علیہ السلام کا علمِ ما کان و ما یکون اور مستقبل کی خبریں
باب: کتاب العقائد
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حاضر و ناظر ہونے کا عقیدہ
باب: کتاب العقائد
نمازِ جنازہ کے وضو سے فرض نماز کی ادائیگی کا حکم
باب: کتاب العقائد
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج جسمانی اور رویت باری تعالیٰ پر وہابیہ کے اعتراض کا جواب
باب: کتاب العقائد