حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج جسمانی اور رویت باری تعالیٰ پر وہابیہ کے اعتراض کا جواب
کیا حضور علیہ السلام کو معراج جسمانی ہوئی ؟ بخدمت گرامی جناب مولانا اعلیٰ حضرت صاحب ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته خدمت عالیہ میں مؤدبانہ التماس ہے کہ احقر کو چند مسائل کے سلسلے میں خط لکھنے کی ضرورت پیش آئی امید ہے کہ آپ ضرور رہنمائی فرمائیں گے میں رامپور سے تعلق رکھتا ہوں یہاں جدہ میں ملازمت کے سلسلے میں مقیم ہوں یہاں ہمارے قرب و جوار میں زیادہ تر لوگ وہابی ہیں اکثر سنی مسلمان اور امام اہل سنت اعلیٰ حضرت قدس سرہ پر اعتراضات کرتے رہتے ہیں۔ میں حسب مقدوران کی ہر بات کا فورا جواب دیتا ہوں۔ ایک بات تو یہ ہے کہ یہ لوگ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسلم، بخاری اور ترمذی کی احادیث کو چھوڑ کر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا قول دہرایا کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے رب کو نہیں دیکھا۔ ایک وہابیہ نے کہا کہ {قَابَ قَوْسَيْنِ اَوُ آؤٹی 10 کی صحیح تفسیر یہ ہے کہ جبریل اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے درمیان دو قوس کا فاصلہ رہا جبکہ امام اہل سنت اعلیٰ حضرت نور اللہ مرقدہ نے اپنے ترجمہ میں اللہ ورسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے درمیان دو ہاتھ کا فاصلہ بلکہ اس سے بھی کم لکھا ہے میں نے کہا کہ مسیح یہی ہے۔ انہوں نے کہا اچھا تمہاری بات مان لیں گے مگر یہ بتاؤ کہ اللہ پاک تو غیر محدود ہے دو ہاتھ کا فاصلہ کیسے ہو گیا کیا تم نے اللہ تعالیٰ کو محدود مان لیا ؟ قرآن شریف دیکھا اور اس میں پڑھا کیا لکھا ہے؟ کہ اس جلوے اور اس محبوب کے درمیان دو ہاتھ کا فاصلہ تھا بلکہ اس سے بھی کم امام اہل سنت مجدد دین وملت حکیم الامت اعلیٰ حضرت شاہ احمد رضا خاں صاحب فاضل بریلوی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے اتنا واضح ترجمہ کیا ہے کہ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں ہے لیکن وہ شخص نہیں مانتا محدود اور غیر محدود ہی کرتا رہتا ہے امید ہے کہ آپ اس محدود اور غیر محدود والی بات کا مختصر الفاظ میں ایسا ٹھوس اور جامع جواب لکھ دیں گے کہ معترض کی زبان بند ہو جائیگی ۔ آگے وہ کوئی سوال ہی نہ کر سکے۔ S. Zafar Ali PO Box 196, Jeddah, (R.S.A) جده المملكة العربية والسعودية
الجواب: یہ مسئلہ سلف میں مختلف فیہ ہے اور ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ حضور سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے رب کو شب معراج سر کی آنکھوں سے دیکھا۔ از انجملہ حضرت انس بن مالک حسن و عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہیں ۔ شفا و تفسیر خازن میں ہے: واللفظ للخازن ذهب جماعة الى انه رأه بعينه حقيقة قالوا رأى محمد ربه عز وجل ، ملخصاً (1) اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اسباب میں روایات متعدد آئیں چنانچہ روایت عکرمہ میں ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنی خلت سے اور موسیٰ کو اپنے کلام سے اور محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کو اپنی رؤیت سے نوازا اور انہیں سے مروی ہے کہ فرماتے ہیں کہ اے لوگو کیا تمہیں تعجب ہے اس پر کہ خلت ابراہیم علیہ السلام کے لئے اور کلام موسیٰ علیہ السلام کے لئے اور رؤیت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے۔ امام نووی نے تبعا لصاحب التحریر اس حدیث کو اقوى الحجج “ کہا نیز عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے سوال ہوا کیا محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا فرمایا ہاں اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مراجعت اور مراسلت اسباب میں فرمائی تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے انہیں خبر دی کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنے رب کو دیکھا اور حضرت حسن بقسم بیان کرتے ہیں کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنے رب کو دیکھا نیز حضرت کعب احبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رؤیت و کلام کو حضرت موسی و حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں تقسیم فرمایا تو موسی علیہ السلام سے دو مرتبہ کلام فرمایا اور حضور علیہ السلام کو دوبارا اپنا دیدار کرایا نیز امام احمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آپ سے جب یہ امر دریافت ہوا تو فرمایا حضور نے رب کو دیکھا دیکھا دیکھا یہاں تک کہ آپ کی سانس ٹوٹ گئی۔ (1) تفسير الخازن، ج ۴، سورة النجم ، ص ۲۰۵ ، دار الكتب العلمية، بيروت رہا حضرت عائشہ کا انکار تو وہ بر بنائے اجتہاد و استنباط ہے نہ بر بنائے روایت اور یہ روایات حضور علیہ الصلاۃ والسلام سے سماع و تعلقی پر محمول ہیں کہ رؤیت خداوندی کی حکایت ایسی بات نہیں کہ قیاس سے کہہ دی جائے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ انہوں نے یہ قول اپنی رائے و گمان سے کہہ دیا ہوگا بلکہ لامحالہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام سے سنا ہوگا تو ان کا یہ قول حدیث مرفوع و مسند به جناب رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حکم میں ہے اور حضرت عائشہ کے قول پر مقدم ہے لہذا اکثر علماء اہل سنت کے نزدیک راجح و معتمد یہی ٹھہرا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و صحبہ وسلم نے اپنے رب کو چشم سر لیلتہ الاسراء میں دیکھا۔ اسی خازن میں ہے : روی عکرمة عن ابن عباس قال ان الله عز و جل اصطفی ابراهیم بالخلة واصطفى موسى بالكلام واصطفى محمد بالرؤية وقال كعب ان الله قسم رؤيته و کلامه بین محمد و موسی فکلم موسى مرتين و راه محمد مرتین (۱) اسی میں ہے: ،، الحجج في المسئلة وان كانت كثيرة ولكن لا تتمسك الا بالاقوى منها وهو حديث ابن عباس أتعجبون أن تكون الخلة لابراهيم والكلام لموسى والرؤية لمحمد صلى الله تعالى عليه وعليهم اجمعين وعن عكرمة قال سئل ابن عباس هل رأى محمد صلى الله عليه وسلم ربه قال نعم وقد روى باسناد لا باس به عن شعبة عن قتادة عن انس قال رأی محمد ربه عز وجل وكان الحسن يحلف لقد رأى محمد صلی الله عليه وسلم ربه عز وجل والأصل في المسئلة حديث ابن عباس حبر هذه الامة وعالمها والمرجوع اليه في المعضلات وقد راجعه ابن عمر في هذه المسئلة هل رأى محمد صلى الله عليه وسلم ربه عز وجل فاخبره انه رأه ولا يقدح في هذا حديث عائشة لان عائشة لم تخبر أنها سمعت النبي صلى الله تعالى عليه وسلم يقول لم أر ربى وانما ذكرت ما ذكرت متأولة لقوله الله تعالى: {وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ تُكَلِّمَهُ اللهُ إِلَّا وَحْيَا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا} ولقوله تعالى: {لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ } واذا قد صحت الروايات عن ابن عباس انه تكلم في هذه المسئلة باثبات الرؤية وجب المصير الى اثباتها لانها ليست مما یدرك بالعقل ويؤخذ بالظن وانما يتلقى بالسمع ولا يستجیز احد ان يظن بابن عباس انه تكلم في هذه المسئلة بالظن والاجتهاد ملخصاً (1) نیز شفا میں ہے: حكى النقاش عن احمد بن حنبل انه قال انا اقول بحدیث ابن عباس بعینه رآه رآه حتى انقطع نفسه یعنی نفس احمد (۲) اور آیت کا وہ ترجمہ جو سید نا اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے کیا ہے وہ بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے قول کے مطابق ہے اور جو فاصلہ آیت میں وارد ہوا وہ اپنے ظاہر پر نہیں ہے بلکہ حضور علیہ السلام کے نہایت قرب منزلت اور اللہ عزوجل کے بے غایت فضل وکرم پر محمول ہے۔ شفا شریف میں ہے: قال الرازی و قال ابن عباس هو محمد دنا فتدلى من ربه - الخ (۳) اسی میں ہے: ان ما وقع من اضافة الدنو والقرب هنا من الله او الى الله فليس بدنو مكان ولا قرب مدئ و انما د نو النبی صلی الله تعالی علیه و سلم من ربه و قربه منه ابانة عظيم منزلة وتشريف رتبة واشراق انوار معرفته ومشاهدة اسرار غيبه وقدرته ومن الله تعالى له مبرة وتانيس_ وبسط و اكرام ، ملخصاً (۴) بالجملہ اہل سنت کا معتقد و معتمد یہی ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنے رب کو شب معراج میں بچشم سر دیکھا اور نہایت قرب سے سرفراز ہوئے اور اس مسئلہ میں اب کسی سنی کا اختلاف نہیں تو اس کا مخالف فی زماناو بابی ، گمراہ، بے دین ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۰ رمضان المبارک ۱۴۰۲ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی