کافر کے لیے ایصالِ ثواب اور مغفرت کی دعا کرنا کفر ہے
سوال
کسی کافر کے لئے اسلامی طریقے سے ایصال ثواب کرنا یا ان الفاظ میں ایسا کہنا کہ ” خدائے تعالیٰ فلاں کی روح کو وہ جگہ دے جو ہمارے پیغمبر صاحب کے لئے ہے (یا پیغمبر صاحب کی ہے )‘۔ ایسا کہنا کیسا ہے؟ اور ایسا کہنے والے کے لئے شرعی حکم کیا ہے؟
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
کفر ہے بقول بعض صحابہ، ردالمحتار میں ہے: الدعاء بالمغفرة للكافر كفر لطلبة تكذيب الله تعالى فيما أخبر به (۱) اور خط کشیدہ جملہ بلاشبہ کفر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱ · صفحہ ۳۲۴–۳۲۵
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
غیر نبی کو پیغمبر کا درجہ دینے کا شرعی حکم
باب: کتاب العقائد
مسلمانوں کے لیے کلمہ طیبہ اور درود شریف کا ایصالِ ثواب کرنا
باب: کتاب العقائد
محفل میلاد میں درود شریف پڑھنے کی شرعی حیثیت
باب: کتاب العقائد
اللہ تعالیٰ کے لیے جمع کے صیغے استعمال کرنے والے مصنف کا حکم
باب: کتاب العقائد
عقیدہ حیات النبی اور حضور ﷺ کے حاضر و ناظر ہونے کا بیان
باب: کتاب العقائد