عقیدہ حیات النبی اور حضور ﷺ کے حاضر و ناظر ہونے کا بیان
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ہذامیں کہ : (۷) زید کہتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مر کر مٹی میں مل گئے ، حاضر و ناظر نہیں ہیں۔
زید کا یہ کلمہ کے معاذ اللہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مر کرمٹی میں مل گئے ،کھلا کفر ہے۔ اس پر تو بہو تجدید ایمان، بیوی والا ہو تو تجدید نکاح واجب ہے۔ اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا حاضر وناظر ہونا اہل سنت کے نزدیک دلائل باہرہ سے ثابت ہے۔ قال تعالی: إِنَّا أَرْسَلْنَكَ شَاهِدًا (۲) شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ اقرب السبل“ میں تحریر فرماتے ہیں: و با چندیں اختلافات و کثرت مذا ہب کہ در علمائے امت است یک کس را در میں مسئلہ خلافے نیست کہ آں حضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم حقیقت حیات بے شائبہ مجاز و تو ہم تاویل دائم و باقیست و بر اعمال امت حاضر و ناظر و مرطالبان حقیقت را و متو جهان آن حضرت را مفیض و مربی است (۱) (۲) سورة الاحزاب : ۴۵ (۱) اقرب السبل بالتوجه الى سيد الرسل برهامش اخبار الاخیار از شیخ عبدالحق محدث دهلوی ص ۱۵۵، مطبع مجتبائی دهلی