بیعت و ارادت اور کسی مرشد سے وابستہ ہونے کی شرعی حیثیت
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ہذامیں کہ : (۴) زید کہتا ہے کہ مرشد پکڑنا یعنی بیعت کرنا جائز نہیں ہے ، مرشد بول کر کوئی بات ہی نہیں ہے۔
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
(۴) بیعت ہو نا بلا شبہ جائز و مستحسن ہے اور خود قرآن عظیم سے ثابت ہے۔ قال تعالى : وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ (٢) اللہ تعالیٰ کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔ زید کے ہم خیال لوگوں کے مستند و معتمد مولوی خرم علی بلہوری نے شاہ عبد الرحیم صاحب جو امام الوہابیہ کے دادا ہی کا قول بواسطہ شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلوی (امام الطائفہ کے چپ) سے نقل کیا کہ آیت میں بیعت سے مرشد مراد ہے۔ شفاء العلیل ترجمہ القول الجميل ، مصنفہ خرم علی بلہوری ۔ واللہ تعالیٰ اعلم
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱ · صفحہ ۳۲۱–۳۲۳
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نور خدا ہونے اور آپ کے نور سے کائنات کی تخلیق کا بیان
باب: کتاب العقائد
محفل میلاد میں قیام تعظیمی کی شرعی حیثیت
باب: کتاب العقائد
انبیاء کرام کو محض اپنے جیسا بشر کہنے والے کا حکم
باب: کتاب العقائد
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے منصب شفاعت کے ثبوت کا بیان
باب: کتاب العقائد
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے علم غیب کے ثبوت اور اس کی نفی کرنے والے کا حکم
باب: کتاب العقائد