حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے علم غیب کے ثبوت اور اس کی نفی کرنے والے کا حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ہذامیں کہ : (1) زید کہتا ہے کہ حضور پاک یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وعلم غیب نہیں ۔
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
(۱) حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے علم غیب عطا فرمایا ہے، متعدد آیتوں میں علم غیب کا اثبات حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا از انجملہ ایک آیت یہ ہے: وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ () یعنی یہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں۔ زید نے مطلقا علم غیب کی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے نفی کی جو صراحۃ تکذیب قرآن ہے اور یہ کفر ہے۔ لہذا زید پر تو بہ وتجدید ایمان و تجدید نکاح بھی بیوی والا ہو تو لا زم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱ · صفحہ ۳۲۰–۳۲۲
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
وہابی کے بجائے برہمن سے نکاح پڑھوانے کے متعلق عقیدے کا حکم
باب: کتاب العقائد
انبیاء کرام کو محض اپنے جیسا بشر کہنے والے کا حکم
باب: کتاب العقائد
قبر پر اذان دینے کا شرعی حکم اور اس سے منع کرنے والے کی حیثیت
باب: کتاب العقائد
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نور خدا ہونے اور آپ کے نور سے کائنات کی تخلیق کا بیان
باب: کتاب العقائد
انبیائے کرام کی قبروں میں حیاتِ جسمانی اور ازواجِ مطہرات سے شب باشی کا عقیدہ
باب: کتاب العقائد