انبیائے کرام کی قبروں میں حیاتِ جسمانی اور ازواجِ مطہرات سے شب باشی کا عقیدہ
محترم المقام جناب مفتی اعظم صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاته کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسائل ذیل میں کہ: (1) جملہ پیغمبر علیہم السلام اور خصوصاً حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی اپنی قبر مبارک میں زندہ ہیں حتی کہ اپنی اپنی بیویوں سے مباشرت بھی کرتے ہیں اور ان کو صرف ایک عارضی موت ہوتی ہے۔ کیا اس عقیدہ کو رکھنے والا ، اپنی تصنیف میں طبع کرانے والا خارج از اسلام ہے؟
الجواب: بیشک مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں حیات حقیقی، روحانی وجسمانی کے ساتھ زندہ ہیں اس لئے انکا رزق منقطع نہیں ہوتا ۔ حدیث شریف میں ہے: ،، ان الله حرم على الارض ان تأكل اجساد الانبياء فنبی اللہ حی فی قبرہ یرزق (۱) اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام فرما دیا کہ وہ نبیوں کے جسموں کو کھائے تو اللہ کا نبی اپنی قبر میں زندہ ہے انہیں رزق دیا جاتا ہے۔ اور یہ کہ انبیائے کرام پر ان کی ازواج مطہرات پیش کی جاتی ہیں اور وہ ان سے شب باشی فرماتے ہیں، اس قول کی تصریح علامہ زرقانی نے فرمائی اور ائمہ دین نے اسے مقرر رکھا ہے تو اس پر تکفیر اعلیٰ حضرت قدس سرہ سے ان تمام کی تکفیر ہوگی اور فی الحقیقت یہ وہابیہ کے دین و ایمان کی بربادی ہے کہ اپنی گستاخی پر ڈٹے ہوئے ہیں اور اپنی گستاخانہ عبارتوں پر پردہ ڈالنے کو ایسی بات پر اعلیٰ حضرت کی تکفیر کیا چاہتے ہیں جس میں نہ اصلا کسی مسئلہ ضرور یہ دینیہ کا انکار نہ کسی طرح قرآن وحدیث کے خلاف بلکہ خود حدیث کے مفاد سے ثابت ہے کہ وہاں یرزق “ فرماتے ہیں اور یرزق “ تمام مواہب الہیہ کو شامل ہے اور اسے محض کھانے پینے سے خاص کرنا وہابیہ کی تنگ سمجھدانی ہے۔ اسی لئے علامہ شرنبلالی نے نور الایضاح میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے متعلق فرمایا: وو ممتع بجميع الملاذو العبادات ) وو یعنی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو تمام لذتیں اور تمام عبادتوں سے قبر انور میں بہرہ حاصل ہے، جی اب ہوش ہوا ؟ تکفیر ملت پوری کیجئے اور شرنبلالی کو بھی خارج از اسلام کہئے ، بلکہ حدیث وصاحب حدیث صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر بھی حکم کیجئے اور پھر دیکھئے کہ کون مسلمان رہتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) قبر پر اذان دینا جائز اور مستحسن ہے اور اس سے منع کرنے والا گنہگار ہے اور اسے بدعت وضلالت جاننے والا خود گنہگار ہے ۔ تفصیل کے لئے ایذان الا جر دیکھو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) وہابی دیوبندی، رافضی و مشرک سے نکاح پڑھوانا گناہ ہے، اگر چہ ہو جائیگا ایسا کہنے والا خارج از اسلام نہیں مگر حکم میں تفرقہ کرنا ہے تو خاطی ہے تو بہ کرے، وہابی و براہمن و ہندو، سب کا حکم ایک ہے کہ ان سے نکاح پڑھوانا نا جائز ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله