وہابی کے بجائے برہمن سے نکاح پڑھوانے کے متعلق عقیدے کا حکم
سوال
(۳) کیا وہابی کے بجائے برہمن اگر نکاح پڑھا دے تو ہو جائیگا ایسا عقیدہ رکھنے والا خارج از اسلام ہے یا نہیں؟
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
(۳) وہابی دیوبندی، رافضی و مشرک سے نکاح پڑھوانا گناہ ہے، اگر چہ ہو جائیگا ایسا کہنے والا خارج از اسلام نہیں مگر حکم میں تفرقہ کرنا ہے تو خاطی ہے تو بہ کرے، وہابی و براہمن و ہندو، سب کا حکم ایک ہے کہ ان سے نکاح پڑھوانا نا جائز ۔ واللہ تعالیٰ اعلم
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱ · صفحہ ۳۱۹–۳۲۰
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
قبر پر اذان دینے کا شرعی حکم اور اس سے منع کرنے والے کی حیثیت
باب: کتاب العقائد
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے علم غیب کے ثبوت اور اس کی نفی کرنے والے کا حکم
باب: کتاب العقائد
انبیائے کرام کی قبروں میں حیاتِ جسمانی اور ازواجِ مطہرات سے شب باشی کا عقیدہ
باب: کتاب العقائد
انبیاء کرام کو محض اپنے جیسا بشر کہنے والے کا حکم
باب: کتاب العقائد
تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے والدین کے عقیدے کے متعلق شرعی حکم
باب: کتاب العقائد