قبر پر اذان دینے کا شرعی حکم اور اس سے منع کرنے والے کی حیثیت
سوال
(۲) قبر پر اذان دینا جائز ہے یا نہیں؟ اگر نا جائز ہے تو فقہ کی کسی معتبر کتاب سے حوالہ پیش کریں اور اگر جائز ہے تو حکم کس درجہ پر ہے یعنی فرض، واجب یا سنت؟ کیا اس سنت سے منع کرنے والا خارج از اسلام ہے؟
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
(۲) قبر پر اذان دینا جائز اور مستحسن ہے اور اس سے منع کرنے والا گنہگار ہے اور اسے بدعت وضلالت جاننے والا خود گنہگار ہے ۔ تفصیل کے لئے ایذان الا جر دیکھو۔ واللہ تعالیٰ اعلم
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱ · صفحہ ۳۱۹–۳۲۰
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
انبیائے کرام کی قبروں میں حیاتِ جسمانی اور ازواجِ مطہرات سے شب باشی کا عقیدہ
باب: کتاب العقائد
وہابی کے بجائے برہمن سے نکاح پڑھوانے کے متعلق عقیدے کا حکم
باب: کتاب العقائد
تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے والدین کے عقیدے کے متعلق شرعی حکم
باب: کتاب العقائد
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے علم غیب کے ثبوت اور اس کی نفی کرنے والے کا حکم
باب: کتاب العقائد
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حقیقی والد کا نام اور ان کا دین
باب: کتاب العقائد