حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حاضر و ناظر ہونے کا عقیدہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ : میرا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ کے مقابلہ میں اللہ کے رسول صل اللہ کی یتیم حاضر و ناظر کیسے ہو سکتے ہیں بس علماء حضرات اس ناچیز آدمی پر روشنی ڈالنے کی کوشش کریں اور میں یہ کہہ رہا ہوں اللہ کے سوا اللہ کے رسول حاضر و ناظر نہیں فریقین کا یہ کہنا ہے کہ اللہ کی عطا سے اللہ کے رسول صلی اینم حاضر و ناظر ہیں ۔
الجواب: فی الواقع حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے حاضر و ناظر بنایا ہے اور یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت علیہ الصلاۃ والسلام کو تمام خلق کا رسول اور تمام خلق پر شاہد مطلق بنایا ہے۔ قال تعالیٰ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا اَرْسَلْنَكَ شَاهِدًا وَ مُبَشِّرًا وَنَذِيرَاه () اور شاہد کا مشہود علیہم پر حاضر و ناظر ہونا ضروری ہے کہ شہادت کے لئے بصر اور معا ینہ مشہور بہ و معاینہ (1) سورة الاحزاب: ۴۵ ضروری ہے۔ درمختار میں ہے: وشرائط التحمل ثلاثة العقل الكامل وقت التحمل و البصر ومعاينة المشهود به (۱) رد المحتار میں ہے: قوله (ومعنى مشاهدة) وهي الاطلاع على الشئ عیانا (۲) اسی لئے ان دیکھی گواہی مقبول نہیں۔ اسی درمختار میں ہے: ولا يشهد احدبمالم يعاينه بالاجماع (۳) تو آیت کریمہ سے ثابت ہوا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم اپنی امت کے تمام احوال وافعال پر نگہباں ہیں اور سب کا مشاہدہ فرما رہے ہیں اسی لئے التحیات میں ہمیں حکم ہے کہ عرض کریں: السلام علیک ایها النبی ورحمة الله و بركاته ،، بالجملہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا حاضر و ناظر ہونا اہلسنت و جماعت کا اجماعی مسئلہ ہے۔ شیخ محقق عبد الحق محدث دہلوی اقرب السبل میں فرماتے ہیں: و با چندیں اختلافات و کثرت مذاہب که در علمائے امت است یک کس را در میں مسئلہ خلافے نیست کہ آں حضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم حقیقت حیات بے شائبہ مجاز و تو ہم تاویل دائم و باقیست و بر اعمال امت حاضر و ناظر و مر طالبان حقیقت را متوجهان آں حضرت را مفیض و مربی است (۴) اور اللہ تعالیٰ حاضر و ناظر نہیں وہ بے حضور شہید اور بے حدقہ بصیر ہے اسی لئے اس کے اسماء میں حاضر و ناظر نہیں لہذا اسے حاضر و ناظر کہنا جائز نہیں کہ حلول و مجسم کا موہم ہے بلکہ بعض علماء نے حاضر و ناظر کہنے پر تکفیر بھی فرمائی ہے اگر چہ مختار یہ ہے کہ یہ کفر نہیں۔ (۱) الدر المختار، ج ۸، ص ۱۷۳ کتاب الشهاداة، دار الكتب العلمية، بيروت (r) رد المحتار ج ۸، ص ۱۷۴ كتاب الشهاداة، دار الكتب العلمية، بيروت (۳) الدر المختار، ج ۸، ص ۱۸۵، کتاب الشهادات دار الكتب العلمية، بيروت (۴) اقرب السبل بالتوجه الى سيد الرسل برهامش اخبار الاخیار، از شیخ عبدالحق محدث دهلوی ص ۱۵۵ ، مطبع مجتبائی دهلی در مختار میں ہے: ویا حاضر و یا ناظر ليس بكفر ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۵ ررمضان المبارک ۱۴۰۲ھ صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی