حضور علیہ الصلاۃ والسلام یا کسی نبی کے علم غیب کی مطلقا نفی کفر ہے
ایک صاحب کا سوال یہ ہے کہ جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب نہیں تھا کیونکہ علم غیب ہوتاتو جبریل اللہ تعالی کے پاس سے وحی کیوں لائے ان کوکو ئی علم غیب نہیں تھا جب میں نے قرآن پاک سے ثابت کر کے بتایا تو انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ جناب مولوی وجیہ الدین صاحب را مپوری یہ فرماتے ہیں کہ علم غیب نہیں تھا۔ اس مسئلہ میں کیا حکم ہے؟
(1) حضور علیہ الصلاۃ والسلام یا کسی نبی سے علم غیب کی مطلقا نفی کفر ہے کہ اطلاع علی الغیب شان نبوت ہے علماء فرماتے ہیں: النبوة التي هي الاطلاع علی الغیب بلکہ لغت میں نبی کا معنی ہی یہی ہے کہ جو غیب اور آئندہ باتیں اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعہ دے چنانچہ منجد میں ہے: النبي المخبر عن الغيب او المستقبل بالهام من الله۔ اور عبد الحفیظ بلیاوی دیوبندی نے مصباح اللغات میں منجد کے اس معنی کا ترجمہ کیا ہے اور اسے مقرر رکھا ہے تو جو حضور علیہ الصلاۃ والسلام یا کسی نبی کے علم غیب کا مطلقاً منکر ہو وہ کافر بے دین ہے کہ اصل نبوت کا منکر ہے اور منکر نبوت کافر ہے۔ اور جبریل امین کا وحی لانا دلیل نفی علم غیب کی نہیں بلکہ علم غیب کی دلیل ہے۔ یہ وہابیہ کی طرفہ حماقت ہے کہ وحی کو علم غیب کی نفی پر دلیل قرار دیتے ہیں حالانکہ قرآن کریم اسی وحی کو غیب فرماتا ہے۔ قال تعالیٰ: ذلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ إِلَيْكَ۔ وقال تعالى : وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَمِنین یعنی یہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں۔ اور اسی وحی سے ہمارے لئے بھی علم غیب ثابت فرمایا۔ قال تعالى : يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْب۔ اور ایمان کے لئے علم لازم تو بالبداہتہ نبی کریم علیہ السلام کے صدقہ میں اللہ تعالیٰ ہم مسلمانوں کے لئے بھی اپنے غیب کے دروازے کھولے اور ہمارے نبی کریم علیہ السلام کو انبیائے سابقین کی طرح بلکہ ان سے ازید وافضل غیب دیا اور امت کے لئے انہیں ذریعہ علم غیب بنایا۔ قال تعالیٰ : وَمَا كَانَ اللهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَكِنَّ اللهَ يَجْتَبِي مِنْ رُّسُلِهِ مَنْ يَشَاءُ۔ وقال تعالى : علِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ۔ نسیم الریاض علامہ امام شہاب خفاجی میں ہے: لم يكلفنا الله الايمان بالغيب الا وقد فتح لنا باب غيبه۔ بالجملہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام سے علم غیب کی نفی اصل نبوت کا انکار اور بکثرت آیات قرآنیہ کی تکذیب ہے جو کفر ہے۔ یونہی وحی کو غیب نہ کہنا قرآن کو جھٹلانا ہے۔ البتہ علم غیب ذاتی خاصہ باری تعالیٰ کا ہے جو مخلوق کے لئے علم ذاتی ثابت کرے بلاشبہ مشرک ہے اور بفضلہ تعالیٰ کوئی سنی ایسا نہیں اور علم غیب عطائی اصالۃ انبیاء وسید الانبیاء اور ان کے طفیل میں اولیاء بلکہ عام مومنین کے لئے بھی ثابت ہے جو اس عطائی کو خاص بجناب باری تعالیٰ بتائے وہ مشرک ہے اگر چہ موحد بنتا ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم