فطرہ کی رقم سے برتن خریدنا، سنت غیر موکدہ کا طریقہ، حاملہ کا نکاح اور روزے میں بہتان تراشی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ (1) فطرہ کی رقم میں سے بر تن خرید کر کام میں لینا کیسا؟ شرعی حکم سے مطلع فرمائیں۔ (۲) عصر اور عشاء کی ۴ / سنت غیر موکدہ کے اول قعدہ میں التحیات کے بعد دونوں درود پڑھ کر تیسری رکعت میں کھڑے ہو کر واپس سرے سے شروع کی جائے یا کیسے ؟ حکم شرع سے آگاہ فرمادیں، عین کرم ہو گا۔ (۳) حاملہ عورت کا نکاح درست ہے یا نہیں ؟ (۴) رمضان المبارک کا روزہ رکھ کر کسی مسلمان پر غلط الزام لگانا، وہ غلط بات اس حالت میں کرناکیسا ہے اور جو ایسا کرتا ہے اس لئے حکم شرع سے آگاہ فرمادیں۔ (۵) دو مسلمان کے جھگڑے کی بنا پر فیصلہ ہو، مسجد میں داخل ہو، مصافحہ کر لینے کے بعد بھی دلوں میں میل
الجواب: (1) وہ رقم اگر کسی نے اس کو فطرہ ادا کرنے کو دی ہے تو اس میں تصرف ناجائز و گناہ ہے کہ امانت میں تصرف بے جا ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) ثنا پڑھنا چاہئے کہ نفل کی ہر دو رکعتیں بمنزلہ ایک نماز کے ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) معتدہ یا منکوحہ ہو تو دوسرا نکاح حرام اور زانیہ ہو تو نکاح زانی و غیر زانی دونوں کو حلال ہے مگر زانی کو اس سے صحبت حلال ہے اور غیر زانی کو تا وضع حمل ہاتھ لگانا بھی ناجائز۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) بہتان لگانا اشد کبیرہ عظیم گناہ ہے، ہمیشہ حرام ہے اور روزہ میں اشد حرام اور روزہ اس سے مکروہ ہوتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) بے وجہ شرعی کینہ رکھنا حرام بد کام بد انجام ہے، جس پر یہ جرم شرعی طور پر ثابت ہو وہ قطع تعلق کا حق ہے اور اگر ثبوت شرعی سے اس کا یہ جرم ظاہر نہ ہو تو بے ثبوت شرعی الزام لگانے والا ملزم و گناہگار ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۱۶/ شوال المکرم ۱۴۰۲ھ