تنہا عورتوں کے بیان سے طلاق ثابت نہیں ہوگی!
اس بارے میں آپ کا کیا حکم ہے: زید ہندہ میں محبت ہوتی ہے ، طلاق کے بارے میں بات چیت ہو رہی ہے ، ہندہ گھر سے نکل جاتی ہے اور مرد عورت کے پاس اپنا بیان دیتی ہے کہ مجھے طلاق دے دی۔ لوگوں نے کہا: کس طرح؟ تو بتائی : تم کو طلاق ، طلاق ، طلاق۔ یہ مغرب کا واقعہ ہے۔ پھر ہندہ کسی وقت مکان پر آتی ہے۔ جب ہندہ سے پوچھا گیا صبح کے وقت تو بتاتی ہے: میں بعد میں طلاق سنی ہوں مگر ہمیں پتہ نہیں کتنی بار کہا، کس طرح کہا اور کون سی گالی دی ہے۔ اس پر گواہوں کا بیان ہے کہ زید نے طلاق طلاق طلاق بعد میں کہا اور یہ بھی کہا کہ جاؤ تم کو جو کرنا تھا کر دیا۔ تب ہندہ گھر سے نکل کر گئی ہے اور لوگوں سے بیان دی ہے اور زید کا بیان ہے میں اس طرح کہا ہوں: کیا طلاق دے دوں، طلاق دے دوں، اور میں قسم خدا کی کھا کر کہتا ہوں اس کے سوا اور کچھ نہیں کہا ہوں۔ اس بارے میں تحریر فرمائیں ، کیا طلاق ہوئی یا نہیں ؟ محمد اسماعیل، لکھیم پور کھیری
الجواب: طلاق کا ثبوت دو مرد عادل یا ایک مرد دو عورتیں عدول کے شرعی شہادت سے ہوتا ہے، تنہا عورتوں کے بیان سے طلاق ثابت نہیں ہوگی۔ لہذا شوہر جبکہ منکر ہے تو طلاق شرعا ثابت نہ ہوئی۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله ۱۸ ذیقعده ۱۴۰۱ھ