تین آیات کے بعد بھولنے پر لقمہ دینا کیسا؟
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ہذا میں کہ: امام صاحب نماز میں تین آیات سے زیادہ پڑھنے کے بعد بھول گئے اور صحیح کرنے کے لئے کوشش بھی کی ، اسی درمیان پیچھے سے لقمہ بھی آگیا لیکن نہ سمجھ پانے کی وجہ سے لقمہ نہیں لیا اور رکوع سجدہ کر کے نماز پوری کرلی بغیر سجدہ سہو کے ۔ اس کے بعد امام صاحب نے اعلان کیا کہ لقمہ دینے والے حضرات اپنی نماز لوٹالیں۔ امام صاحب کا کہنا صحیح ہے یا غلط؟ بینوا توجروا محمد خلیل الرحمن ، امام مسجد ہری، محلہ اعظم نگر، بریلی
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
مقتدی نے اگر لقمہ صحیح وبرمحل دیا تھا تو اس کی نماز ہوگئی، اعادہ کی حاجت نہیں اور اگر اس نے لقمہ صحیح نہ دیا تو نماز نہ ہوئی اور امام صاحب نے صحیح کہا۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱۱ · صفحہ ۳۴–۳۵
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
بے وجہ شرعی کسی شخص کو اس کے منصب سے معزول کرنا اور مسجد میں جھگڑا کرنے کا حکم
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ
تنہا عورتوں کے بیان سے طلاق ثابت نہیں ہوگی!
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ
جانور کو آزاد چھوڑنے کی رسم اور اس کی فروخت سے حاصل شدہ رقم کا مسجد میں استعمال
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ
فطرہ کی رقم سے برتن خریدنا، سنت غیر موکدہ کا طریقہ، حاملہ کا نکاح اور روزے میں بہتان تراشی
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ
دیہات میں جمعہ، غیر مسلم کو سلام کا جواب اور نفل نماز میں ثنا و درود کے احکام
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ