جانور کو آزاد چھوڑنے کی رسم اور اس کی فروخت سے حاصل شدہ رقم کا مسجد میں استعمال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و شرع متین اس مسئلہ میں کہ : موضع گوری کے ہندو اور مسلمانوں نے مشترک طور پر ایک بھینسا خریدا اور اس کو آزاد چھوڑ دیا۔ پھر لگ بھگ سال بھر کے بعد مبلغ ۸۰۰/ آٹھ سو روپیہ میں فروخت کر دیا گیا۔ آدھی قیمت مبلغ ۴۰۰ / چار سور و پیہ ہندؤوں کو دے دیا گیا اور ۴۰۰ / چار سو روپیہ مسلمانوں نے ایک جگہ جمع کر دیا۔ چار سو روپیہ ہنوز جمع ہے ، بھینسا کو چھوڑنے کا مقصد سماجی کام میں لانا تھا۔ اب کچھ لوگوں کی رائے ہوئی کہ اس روپیہ کو تعمیر مسجد میں صرف کیا جائے۔ ایسی صورت حال میں وہ جمع شدہ رقم تعمیر میں مسجد کے لگائی جاسکتی ہے یا نہیں ؟ از روئے قرآن و حدیث وفقہ آگاہ فرما یا جاوے۔ المستفتی: محمد یاسین ، سکریٹری برائے تعمیر جامع مسجد گوری، ڈاکخانہ گوری ، ضلع سیتا مڑھی (بہار)
الجواب:
جانور کو آزاد چھوڑ دینا مشرکانہ رسم ہے اور یہ ان کا خاص مذہبی شعار ہے جس میں مسلمانوں کو شرکت حرام بلکہ کفر ہے ۔ حدیث میں ہے: من تشبه بقوم فهو منهم. جو جس قوم کی مشابہت پیدا کرے وہ انہی میں سے ہے اور وہ عذر جو سوال میں درج ہوا، کارگر نہیں۔ ان لوگوں پر تو بہ لازم ہے۔ بعد تو بہ ان کی رقم مسجد میں ان کی خوشی سے لگانا جائز۔ واللہ تعالی اعلم
فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله
صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۱۶ جمادی الآخره ۱۴۰۲ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام، محله سوداگران ، بریلی شریف