بے وجہ شرعی کسی شخص کو اس کے منصب سے معزول کرنا اور مسجد میں جھگڑا کرنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ایک شخص جو پانچوں وقت کا نمازی ہے اور مسئلہ وغیرہ سے واقف ہے، امام صاحب سے جھگڑا ہو جانے کی وجہ سے امام صاحب کے سامنے سے مصلی اٹھالیا اور نماز نہیں پڑھنے دیا۔ تمام مصلیان الگ الگ نماز ادا کرتے ہیں، مصلی اپنے بغل میں دبالیا ہے۔ اس سلسلے میں ایسے شخص کے لئے کیا حکم شرعی ہے ؟ اور اسی وجہ سے مسجد کے اندر جھگڑا ہوا، پکڑی پکڑا ہوا، آپس میں دو پارٹیاں ہوئیں ۔ فقط محمد قاسم صاحب، لسی چتور گڑھ
الجوار بے وجہ شرعی کسی شخص کو اس کے منصب سے معزول کرنا حرام ہے۔ در مختار میں ہے: لا يعزل صاحب وظيفة بلا جنحة (1) تكملة اور وجہ شرعی ہو تو معزول کرناضرور ہے۔ سوال میں وجہ نہ لکھی گئی۔ دوبارہ وجہ لکھ کر سوال کیا جائے۔ وھو تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالی اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام، محله سوداگران، بریلی ۷ / ذی قعدہ ۱۴۰۱ھ