حالت جنون کا اقرار طلاق شرعا معتبر نہیں
ہم اہل سنت و جماعت محلہ جلالی پور و وارانسی ایک استفتاء کے مختلف فیہ جواب ہونے کی وجہ سے کافی انتشار کا شکار ہیں کہ کس جواب پر عمل کریں۔ اس لئے آپ کی خدمت میں تمام جوابات کی فوٹو کاپی ارسال ہے، جو جواب صحیح و حق ہو اس کو مدلل تفصیل کے ساتھ تحریر فرمائیں تاکہ انتشار ختم ہو۔ جوابات کی حسب ذیل کا پیاں منسلک ہیں۔ (1) فتویٰ الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور (۲) فتویٰ مفتی عبد الباسط ابراهیمی، بنارس (۳) فتوی مرکزی دار الافتاء، بریلی شریف (۴) فتویٰ دارالعلوم منظر اسلام، بریلی شریف
نوٹ : تمام استفتاء کے ساتھ ڈاکٹری رپورٹ ہندی اور انگریزی میں منسلک ہو رہی ہے ، جواب کے لئے رجسٹری ڈاک کا ٹکٹ لگا کر لفافہ حاضر خدمت ہے ، رجسٹر ڈ ڈاک سے ہی جلد از جلد جواب ارسال فرمائیں۔ الجواب: برادران اہل سنت و جماعت، محله جلالی پوره وارانسی زید کے دماغی توازن کے بارے میں ڈاکٹری بیانات اور اس کے گھر والوں کا بیان اور اس کے متعلق فتاوی بالا دیگر ملاحظہ ہوئے۔ گھر والے بتاتے ہیں کہ اس کا دماغی توازن خراب ہے ، اس حالت میں اس نے پہلی بار کی طلاق کا اقرار کیا ہے تو یہ اقرار حالت جنون میں ہوا اور حالت جنون کا اقرار شرعا معتبر نہیں تو اسے دلیل بنانا کب روا ہے ؟ اور حالت موجودہ میں تو کوئی شبہہ ہی نہیں کہ اس نے یہ طلاق حالت جنون میں دی ہے ، یوں ہی طلاق سابق کا اقرار بھی اسی حالت جنون میں کر دیا ہے۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ پہلی مرتبہ جب اس نے طلاق دی تھی تو وہ صحیح الحواس تھا تو اس سے یہ کب لازم آتا ہے کہ حالت موجودہ میں بھی اس کے ہوش و حواس درست ہوں، پھر بنارس کے فتویٰ میں زید کا جنون تسلیم کیا گیا ہے چنانچہ لکھا کہ زید کا جنون اس درجہ کا نہیں ہے پھر اس کے باوجود وقوع طلاق کا حکم دینا عجیب ہے، بہر کیف حکم وہی ہے جو مبارک پور وغیرہ کے فتاویٰ میں تحریر ہوا اور وہ یہ کہ زید کی بیوی بدستور اس کی بیوی ہے ، جب تک شرعی طور پر نکاح زائل ہو کر عدت نہ گزرے اسے دوسرے سے نکاح حرام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرلہ