زید کا اپنی بیوی کو دو بار تین تین طلاقیں دینے اور ایک کا اقرار و دوسری کا انکار کرنے کا حکم
زید نے اپنی بیوی ہندہ کو اب سے دو سال پہلے تین مرتبہ طلاق دی، بعدہ ہندہ اپنے شوہر کے یہاں رہی، اس کے تین بچے بھی پیدا ہوئے ، بعدہ پھر زید نے ہندہ کو تین مرتبہ طلاق دی، پھر کسی صورت سے ہندہ اپنے باپ کے یہاں آئی تو ہندہ نے اپنے باپ کو یہ تمام قصہ سنایا تو ہندہ کے باپ نے کچھ لوگوں کو جمع کیا تو زید سے طلاق کے بارے میں کہا گیا تو زید اب سے دو سال پہلے والی تین طلاقوں کو منظور کرتا ہے اور بعد والی تین طلاقوں کا انکار کرتا ہے۔ اس حالت میں شریعت پاک کا کیا حکم ہے ؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں عنایت فرمائیں۔ المستفتی: عبدالقیوم، موضع ہر ہر پور مشکلی ضلع بریلی شریف
الجواب: ہندہ کو زید جبکہ تین طلاقیں دے چکا تھا تو زید و ہندہ کو بے حلالہ ساتھ رہنا حلال نہ تھا۔ اگر حلالہ نہ ہوا اور وہ دونوں یونہی بے نکاح ساتھ رہے تو اشد گناہگار مستوجب نار، دونوں پر تو بہ فرض ہے اور فوراً علیحدگی ضرور ۔ اور ہندہ کو اختیار ہے کہ جس کے ساتھ نکاح جائز ہو، اس سے نکاح کر لے اور زید کے ساتھ رہنا ہو تو دوسرے شوہر سے بعد جماع طلاق لے اور عدت کے بعد زید سے نکاح کرلے اور اگر ہندہ حلالہ کراچکی اور دوبارہ زید سے نکاح صحیح کر چکی تو بعد کی تین طلاقیں بے شہادت شرعیہ ثابت نہ ہوں گی۔ لہذا اہندہ زید ہی کی بیوی رہے گی اور اسے دوسرا نکاح حلال نہ ہوگا مگر ہندہ جبکہ تین طلاقوں کی مدعیہ ہو تو اسے زید کو اپنے اوپر قابو دینا جائز نہیں۔ بزاز یہ پھر در مختار میں ہے: قالت طلقني ثلثا ثم ارادت تزويج نفسها منه ليس لها ذلك اصرت على ذلك ام اكذبت نفسها. ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۵/ رمضان المبارک ۱۴۰۱ھ (1) الدر المختار، کتاب الطلاق، باب الرجعة، ج ۵، ص ٥٥ ، دار الكتب العلمية، بيروت