نکاح کے پانچ ماہ بعد بچہ پیدا ہوا تو ثابت النسب ہوگا یا نہیں؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : زید نے ایک عورت کے ساتھ نکاح کیا بعد نکاح پانچ ماہ اور پندرہ دن کے لڑکا پیدا ہو گیا عورت دوسرے کے نکاح میں تھی اس کو طلاق دئے ایک سال ہو گیا تھا۔ زید نے اس کے ساتھ جو نکاح کیا ہے یہ بھول میں یعنی اس کو یہ معلوم نہیں تھا کہ عورت حاملہ ہے۔ اب وہ لڑکا حلالی ہے یا حرامی؟ اگرلڑ کا حرامی ہے تو نکاح وہی کافی ہے یا دوسرا ہونا چاہئے ؟ از روئے شرع حکم فرما کر شکریہ کا موقع دیں ۔ میں کرم ہو گا ! آپ کا خادم : شمس احمد رضوی موضع سمراواں ، ضلع بریلی شریف
الجواب: صورت مسئولہ میں جبکہ شوہر کو مل عورت کا علم نہ تھا تو یہ نکاح فاسد ہوا کہ عورت ہنوز معتدہ تھی کہ و جمل سے تھی اور حمل کی مدت اکثر دو سال ہے۔ ہدایہ میں ہے: واكثر مدة الحمل سنتان و اقله ستة اشهر (۱) اور حاملہ کی عدت وضع حمل ہے۔ قال تعالیٰ: وَ أُولَاتُ الْأَعْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ } () اور جبکہ یہ بعد طلاق مدت مقررہ مذکورہ میں ظاہر ہوا تو صحیح یہی ہے کہ وہ پہلے شوہر کا تھا لہذا بچے کا نسب پہلے شوہر سے ثابت ہوگا اور بالفرض معاذ اللہ اگر اسی مدت میں اس عورت سے زنا بھی واقع ہوتا جب بھی بہ سبب اشتباہ عدت وہی قرار پائے گی اور بچہ کا نسب اس وقت تک پہلے سے منتقلی نہ ہوگا جب تک یہ خبر بھی شرعی لعان ہو کر منتفی نہ ہو جائے یہاں سے ظاہر ہوا کہ بچہ حلالی قرار پائے گا۔ اس نکاح کا حکم یہ ہے کہ بعد علم متارکہ وجدائی فرض ہے اور تاخیر گناہ ہے۔ اور متارکہ یہ کہ مرد کہہ دے میں نے تجھے چھوڑا یا عورت کہہ دے میں تجھ سے جدا ہوئی۔ واللہ تعالیٰ اعلم كتاب الطلاق / باب النسب اب جبکہ عدت پوری ہوئی وہ بعد متار کہ دوبارہ نکاح کر سکتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۷ رشوال المکرم ۱۳۹۷ھ