بے نمازی اور ناپاکی کی پرواہ نہ کرنے والی بیوی کے متعلق شرعی حکم
سوال
جناب قبلہ مولوی صاحب ! گزارش حال یہ ہے کہ : میں مال گودام والی مسجد کا پیش امام ہوں، مجھے دھوکہ دے کر ایک انپڑھ لڑکی کے ساتھ شادی کر دی جو کہ نہ تو نماز جانتی ہے اور ناہی اسے پا کی ، ناپاکی کی خبر ہے، میں نے بہت کوشش کی لیکن نماز سیکھنے میں ٹال مٹول کرتی ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ لڑکی ٹھیک ہونے کے قابل نہیں ہے۔ شریعت کا کیا حکم ہے؟ المستفتی : معروف خاں
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: به نرمی ولطف اسے سمجھا ئیں ، نہ مانے تو سختی سے کہیں اور زیادہ اصرار پر ضرب کی اجازت ہے مگر اعتدال کے ساتھ اور سید نا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بے نمازی عورت کو طلاق دینا اس کے ساتھ بسر کرنے سے بہتر فرمایا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۷ · صفحہ ۲۴۶
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
الفاظِ کنایہ کے ذریعے دی گئی طلاق اور کورٹ میرج کا حکم
باب: کتاب الطلاق
عدت طلاق کے بعد بھی شوہر سے بالجبر نفقہ وصول کرنا کیسا؟
باب: کتاب الطلاق
طلاق کے بعد نکاح ثانی پھر بے جماع طلاق اور فورا نکاح کا حکم
باب: کتاب الطلاق
نکاح کے پانچ ماہ بعد بچہ پیدا ہوا تو ثابت النسب ہوگا یا نہیں؟
باب: کتاب الطلاق
کھانے پینے پر طلاق کی تعلیق سے بچنے کا حیلہ شرعی
باب: کتاب الطلاق