طلاق کے بعد نکاح ثانی پھر بے جماع طلاق اور فورا نکاح کا حکم
طلاق کے بعد نکاح ثانی پھر بے جماع طلاق اور فورا نکاح کا حکم ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان کرام مسئلہ ذیل میں کہ: ایک شخص سے اس کے ساس وسر نے زبر دستی طلاق حاصل کی ، کچھ ہی مدت میں ایک علامہ صاحب نے اس عورت کا نکاح ایک دوسرے شخص سے پڑھا کر اسی مجلس میں بغیر شب باشی کے طلاق دلا دی اور بغیر عدت گزرے ہی پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح پڑھا دیا اور وہ دونوں اپنے زن و شوہر کے تعلقات سے زندگی گزارتے ہیں۔ کیا یہ نکاح و طلاق از روئے شرع صحیح ہے؟ اور اس نکاح و طلاق میں شریک ہونے والے افراد کے لئے کوئی شرعی مسئلہ ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا السائل: صوفی عبدالرحیم ، لائن نمبر ۱۳ ، ہلد وانی ضلع نینی تال
الجواب: طلاق اگر به اکراہ شرعی تحریری طور پر حاصل کی گئی تو نکاح سرے سے حرام قطعی ہوا اور اگر دوسرے شخص کو اس کا علم تھا کہ وہ عورت منکوحہ ہے اور اس کے شوہر سے بہ اکراہ شرعی طلاق کی ہے تو نکاح باطل محض ہوا اور قربت خالص زنا اور اگر وہ نہ جانتا تھا تو بعد علم متارکہ فرض ہے اور تاخیر گناہ ہے اور اگر اس نے زبانی طلاق دی یا اس نے بغیر اکراہ شرعی تحریرلکھی تو طلاق ہوگئی اور نکاح صحیح ہوا جبکہ عدت کے بعد ہوا اور اگر عدت میں ہوا تو وہی حکم وہی تفصیل ہے اور اس دوسرے نکاح میں عورت سے جماع ہوکر بعد طلاق عدت کا گزر جانا پہلے سے نکاح کے لئے شرط تھا، بغیر اس کے اس پہلے سے نکاح حرام قطعی و باطل محض ہے اور پڑھانے والا زنا کا دلال ہے، اس پر اور سب واقفان حال پر تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۸/ جمادی الاولی ۱۳۹۸ھ