تم ماں کے یہاں چلی جاؤ کہنے سے طلاق واقع ہونے کا حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں کہ: زید نے اپنی بیوی سے کہا کہ تم ماں کے یہاں چلی جاؤ۔ کون سی طلاق واقع ہوئی ؟
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: ایک طلاق بائن واقع ہوگئی جب کہ جاؤ بہ نیت طلاق بولا ہو یا محفل محفل مذاکرہ طلاق ہو۔ ور نہ کچھ نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله یکم شعبان المعظم ۱۳۹۸ھ مطابق ۹ر جولائی ۱۹۷۸ء
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۷ · صفحہ ۲۴۲
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
شوہر کا دوسرے سے طلاق نامہ لکھوا کر اس پر دستخط کرنے سے وقوع طلاق کا حکم
باب: کتاب الطلاق
کھانے پینے پر طلاق کی تعلیق سے بچنے کا حیلہ شرعی
باب: کتاب الطلاق
انجانے میں نشہ کرنے کے عذر اور حالت نشہ میں دی گئی طلاق کا حکم
باب: کتاب الطلاق
طلاق کے بعد نکاح ثانی پھر بے جماع طلاق اور فورا نکاح کا حکم
باب: کتاب الطلاق
لفظ "ہم سے خلع نامہ لے لو" کہنے سے طلاق واقع ہونے کا حکم
باب: کتاب الطلاق