لفظ "ہم سے خلع نامہ لے لو" کہنے سے طلاق واقع ہونے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: خلیل احمد نے کسی بات پر اپنی بیوی سے غصہ کی حالت میں کہا کہ اگر تمہیں ہمارے ساتھ چلنا ہے تو چلو ورنہ چار آدمی بلا کر ہم سے ضلع نامہ لے لو۔ دو مرتبہ یہی لفظ استعمال کیا جس کا بیوی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ تو خلیل احمد نے اپنا ایک بچہ لے لیا اور جانے لگا تو بیوی نے کہا کہ تم ہمارا مہر دے کر جاؤ خلیل احمد نے کوئی جواب نہیں دیا اور چلے گئے ۔ اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ کیا اس سے طلاق واقع ہوگئی یا نہیں؟ اور اب خلیل احمد کو کیا کرنا چاہئے؟ تسلی بخش جواب مرحمت فرما ئیں ۔ کرم ہوگا! سائل: خلیل احمد موضع گنگا بر سلیم آباد، پوسٹ بودھیا کلاں، ضلع کھیری لکھیم پور
صورت مسئولہ میں اس جملہ سے کہ ”ہم سے خلع نامہ لے لو طلاق نہ ہوئی۔ اگر کوئی اور لفظ طلاق کا بولا ہو تو دوبارہ سوال کیا جائے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ و المولیٰ تعالیٰ اعلم یکم رجب المرجب ۱۳۹۸ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دارالافتاء منظر اسلام، محله سوداگران، بریلی