طلاق کی تعداد میں میاں بیوی کے درمیان اختلاف اور رجعت کا مسئلہ
۶ / رمضان المبارک ۱۳۹۸ھ جا تجھے طلاق دی تجھے طلاق دی کہنے کے بعد رجعت ہو سکتی ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ: زید نے طلاق دی ( لفظ یہ ہے : جا تجھے طلاق دی ، تجھے طلاق دی ) ۔ بعد طلاق کے ہندہ میکے رہی اور جب پوچھا جاتا ہے تو زید نے کہا میں نے دو طلاق دی۔ ہندہ پہلی مرتبہ پوچھنے پر قسم کھا کر بولی که تین طلاق زید نے دی ہے۔ پھر دوروز بعد پوچھا جاتا ہے بلکہ دھمکی وخوف وخطر اور قسم رکھ کر پوچھا گیا تو ہندہ بولی کہ میں قسم کھاتی ہوں کہ دو طلاق زید نے دی، میں غصہ کے سبب پہلی مرتبہ تین کہہ دی تھی اور طلاق کے وقت کا گواہ بھی نہیں ہے اور طلاق دئے ہوئے سوا مہینہ ہوا ہے۔ تو کیا اس صورت میں رجعت
المستفتی: مدرس مدرسہ جامع مسجد حنفیه، کیندا پاڑہ ، کٹک جا“ سے اگر نیت طلاق کی تھی یا محفل میں طلاق کی بات چل رہی تھی تو اس لفظ سے ایک بائن طلاق پڑی اور دو بعد کے فقرہ مکر رہ " تجھے طلاق دی" سے، یہ کل تین طلاقیں ہوئیں۔ اور اگر پہلے سے طلاق کا ذکر نہ تھا نہ جا سے نیت طلاق کی تھی تو دور جھی ہوئیں اور شوہر کا قول بہ قسم معتبر ہوگا ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ