شوہر کے تحریری فیصلے پر دستخط کرنے سے طلاق کے وقوع کا حکم
سوال
لئے دیا کرتا تھا، بیوی نے کہا اتنے روپیہ میں گزر نہیں کر سکتی ، زیادہ کر کے دیا کرو۔ تو مشتاق حسین نے کہا اتنا ہی دوں گا زیادہ نہیں دوں گا، اگر اتنے روپیہ میں گزر ہو تو رہو ورنہ فیصلہ لے لو۔ رخسانہ نے کہا دے دو، دوسرے نے کاغذ لکھا، مشتاق حسین نے دستخط کر دیا۔ اب مشاق حسین کہتا ہے کہ میں نے زبان سے طلاق نہیں دی ہے۔ ایسی صورت میں طلاق ہوگی یا نہیں ؟ فقط
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: صورت مسئولہ میں ایک طلاق واقع ہو گئی جو قبل انقضائے عدت رجعی تھی اور شوہر کو عدت میں رجعت کا حق تھا مگر جبکہ عدت گزرگئی تو یہ رجعی اب بائن ہو گئی۔ اب برضائے زن بمہر جدید دوبارہ نکاح کر سکتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۴ رذی الحجہ ۱۳۹۶ھ صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۷ · صفحہ ۲۳۵
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
کسی دوسرے کے لکھے ہوئے طلاق نامہ پر شوہر کے دستخط کرنے کا حکم
باب: کتاب الطلاق
شوہر کا بیوی کو نان و نفقہ نہ دینے اور غائب ہو جانے پر طلاق حاصل کرنے کا حکم
باب: کتاب الطلاق
اکراہ شرعی کی تعریف اور زبردستی انگوٹھا لگوانے کا حکم
باب: کتاب الطلاق
طلاق کی تعداد میں میاں بیوی کے درمیان اختلاف اور رجعت کا مسئلہ
باب: کتاب الطلاق
تین طلاق کے بعد مطلقہ کے ساتھ رہنے کی ممانعت اور بچے کی حضانت کا مسئلہ
باب: کتاب الطلاق