اکراہ شرعی کی تعریف اور زبردستی انگوٹھا لگوانے کا حکم
اکراہ کب اکراہ شرعی ہوگا ؟ محض ڈرانا دھمکا نا اس میں داخل ہے کہ نہیں؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ: ایک لڑکی ہے جو آٹھ مہینے کے حمل سے ہے ، سسرال میں جھگڑا ہوا، لڑکے سے لڑکی کے میکے میں چار غیر مسلموں نے مل کر لڑکے کو پکڑ کر زبردستی ایک کاغذ پر انگوٹھا لگوا لیا ہے اور لڑکے نے زبان سے طلاق دینے سے انکار کیا اور لڑکی بھی موجود تھی اس کے ساتھ لڑکے نے کہا کہ میں تم کو طلاق نہیں دے رہا ہوں اور لڑکی کہہ رہی ہے کہ میں تمہارے ساتھ میں زندگی گزاروں گی۔ اب علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کیا حکم فرماتے ہیں ؟ جواب آسان اور اردو زبان میں تحریر فرماویں۔ عین کرم ہوگا۔ طلاق ہوئی یا نہیں ؟ اور لڑکا اپنی عورت کو اپنے گھر لے جانا چاہتا ہے اور لڑکی
راضی ہے جانے کے لئے ۔ الجواب: المستفتی: ناراحمد، موضع بد بیانگر پوست موتی سنج بازار گونده سائل کا بیان اگر واقعہ ہے تو طلاق نہ ہوئی اور وہ لڑکی اس لڑکے کی بدستور بیوی ہے اور جن لوگوں نے اس سے زبر دستی طلاق لینے کی کوشش کی وہی ملزم و گناہ گار حق اللہ وحق العبد میں گرفتار مستوجب عذاب نار ہوئے ۔ مگر یہ حکم اس وقت ہے جبکہ طلاقنامہ پر انگوٹھا لگانے پر اسے بہ اکراہ شرعی مجبور کیا گیا ہومثلاً ضرب شدید یا قطع عضو یا قتل نفس کی دھمکی دی اور اسے غالب گمان ہوا کہ اگر یہ انگوٹھانہ کرے گا تو ضرور مارا جائے گا یا ہاتھ پیر مثلاً کاٹے جائیں گے یا مار دیں گے۔ ایسی صورت جبر اگر متق تھی تو حکم وہی کہ طلاق نہ ہوئی اور اگر یہ صورت نہ تھی بلکہ محض لوگوں کے کہنے سننے سے انگوٹھا کر دیا تو طلاق ہوگئی جبکہ طلاقنامہ کے مضمون سے باخبر ہو جیسی اور جتنی طلاقیں اس میں لکھی ہوں، ویسی اور اتنی طلاقیں واقع ہو گئیں۔ واللہ تعالی اعلم صح الجواب ! فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ اگر وہ سادہ کاغذ تھا، اس میں طلاق نہ دیکھی تھی جب بھی طلاق واقع ہونے کا حکم نہ ہوگا ۔ فقط ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام، بریلی شریف