مستقبل کے صیغے کے ساتھ طلاق دے دوں گا کہنے کا حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین در میں مسئلہ کہ : میرے سسر سے میرا جھگڑا ہوا۔ وہ اپنی لڑکی یعنی میری بیوی کو نہیں بھیجتے تھے۔ میرے سسر نے کہا کہ میری لڑکی کو طلاق دے دو۔ تب میں نے یہ کہا کہ آپ جب ایسا کرتے ہیں تب میں طلاق دے دوں گا “۔ اب آپ فیصلہ فرمائیے کہ ان الفاظ کے کہنے سے طلاق میری بیوی کی ہوئی یا نہیں؟ میرے یہاں سے وہ اپنی بہن کی شادی میں خوشی سے لے گئے جب میں نے ساتھ لانے کو کہا کہ آپ اب بھیج دیجئے تب انہوں نے میری بیوی کو بھیجنے سے انکار کر دیا۔
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: خط کشیدہ جملہ طلاق نہیں، وعدۂ طلاق ہے۔ فی الواقع اگر یہی جملہ کہا ہے اور کوئی ایسا جملہ نہ کہا جس سے طلاق پڑے تو طلاق نہ ہوئی۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ١٢ / جمادی الاخر می ۱۴۰۶ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۷ · صفحہ ۲۳۰
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
طلاق کے اقرار کے بعد عورت کے عقد ثانی اور ثبوت طلاق کا حکم
باب: کتاب الطلاق
آج کی تاریخ سے گاؤں میں گئی تو تم پر تین طلاق اب گاؤں میں جانے کی کیا صورت ہوگی؟
باب: کتاب الطلاق
حالت اکراہ میں تحریری طلاق کا حکم !
باب: کتاب الطلاق
تین طلاق کے بعد مطلقہ کے ساتھ رہنے کی ممانعت اور بچے کی حضانت کا مسئلہ
باب: کتاب الطلاق
تین طلاق کے اقرار کے بعد مکر جانے اور اس شخص سے قطع تعلق کا حکم
باب: کتاب الطلاق