تین طلاق کے اقرار کے بعد مکر جانے اور اس شخص سے قطع تعلق کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ : محمد جابر ساکن موضع بگھوری تحصیل ستار گنج ضلع نینی تال میرا رشتہ کا سالہ ہے۔ اس نے آج کئی ماہ قبل میرے گھر پر آکر کہا تھا کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے۔ میں نے پوچھا کہ کتنے بار؟ تو اس نے کہا کہ تین بار طلاق دی ہے مگر اب مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس کی بیوی اس کے ساتھ رہ رہی ہے۔ معلومات کرنے پر پتہ چلا کہ گاؤں کی پنچایت میں اس نے قسم کھا کر کہا کہ میں نے دو بار طلاق دی ہے۔ جبکہ میرے سامنے اس نے کہا کہ تین بار طلاق دی ہے۔ لہذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ میں اس شخص کے ساتھ کیسا برتاؤ کروں؟ کیا اس کے یہاں کسی موقع پر شرکت دوں یا نہیں؟ براہ کرم جواب جلد از جلد مرحمت فرمائیں ! المستفتی: عبدالنبی انصاری کنور پورسسیاں ضلع نینی تال
الجواب: اگر آپ کے سامنے واقعی اپنی بیوی کو تین بار طلاق دینے کا اقرار کیا ہے تو اس کی بیوی اس پر ایسی حرام ہے کہ بے حلالہ اسے کبھی حلال نہ ہوگی ۔ اس پر لازم ہے کہ اس عورت سے فورا علیحدہ ہو جائے ور نہ دونوں مبتلائے زنا مستحق اشد عذاب ہوتے رہیں گے۔ اس کے جھوٹ بولنے سے اس کے لئے اس کی بیوی حلال نہ ہوگی بلکہ جھوٹ کا وبال اس زنا کاری کے وبال کے ساتھ دوہرا ہوگا۔ مگر طلاق کا ثبوت اقرار شوہر یا گواہان شرعی کی شہادت شرعیہ پر موقوف ہے۔ لہذا طلاقیں ثابت نہ ہوں گی ۔ آپ کے سامنے اگر واقعہ اس نے تین طلاق کا اقرار کیا ہے تو آپ اس سے پر ہیز کریں اور حتی الامکان اسے حکم شروع پر عمل کرنے کی تلقین کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله