طلاق نامہ پر انگوٹھا لگانے سے طلاق کے وقوع کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ایک شخص اپنی بیوی کو کافروں کے ہاتھ فروخت کر رہا تھا مسلمانوں کو جب اس بات کا علم ہوا مسلمانوں نے اس عورت کو اپنے قبضے میں کر لیا اور اس کے شوہر کو بلا کر طلاقنامہ پر اس کا انگوٹھالے لیا ہے اور چند معتبر آدمیوں کے سامنے طلاق نامہ کو سنایا گیا۔ اس نے مسلمانوں کے کہنے سے انگوٹھا لگا دیا۔ علما سے گزارش یہ ہے کہ طلاق نامہ پر انگوٹھا لگانے سے طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ اور اگر طلاق نہیں ہوئی تو وہ عورت اگر پہلے شوہر کو دی جاتی ہے تو وہ کافروں کے ہاتھ فروخت کر دے گا۔ آپ سے التجا ہے کہ اس کا نکاح کسی مسلمان سے ہو سکتا ہے یا نہیں؟ جواب جلد از جلد عنایت فرمائیں۔ لیکن اس نے طلاق اپنی زبان سے نہیں کہی۔ لہذا اطلاق واقع ہوئی یا نہیں ؟ جواب عنایت فرما ئیں! لمستفتی: حاجی بشیراحمد کیدار پور، پوسٹ نصیر پور پٹواری تحصیل دھام پور ضلع بجنور
الجواب: طلاق نامہ ملاحظہ ہوا۔ اس کی وجہ سے ایک طلاق اس شخص کی بیوی پر واقع ہوگئی۔ بعد عدت دوسرے سے نکاح ہوسکتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۷ رصفر المظفر ۱۴۰۶ھ